”آیت کریمہ کی برکات ، ہر پریشانی ختم ہوگی“

حضور اکرم ﷺ سے ایک دن میں ستر مرتبہ اور ایک دوسری روایت میں سو مرتبہ استغفار کرنا ثابت ہے، لہذا کسی کو اس کی ترغیب دینا جائز ہے۔آیت کریمہ پڑھنے کے متعلق احادیث مبارکہ میں بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں، تاہم آیت کریمہ کو وظیفہ کے طور پر پڑھنے سے متعلق (ہماری معلومات کی حد تک) کسی حدیث میںمخصوص تعداد مقرر نہیں کی گئی، بلکہ بزرگوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں مختلف حاجات کیلئے مختلف تعداد بیان کی ہے، ان پر عمل کیا جاسکتا ہے، لیکن اس مخصوص تعداد کو مسنون یا ضروری سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

آیت کریمہ کے ذریعہ گمشدہ افراد یا روٹھی ہوئی بیوی کو واپس بلانے کا مجرب وآزمودہ عمل اگر کسی کا بچہ یابچی یاگھر کا کوئی اور فرد لاپتہ ہو گیا ہو یا گھر سے ناراض ہو کر نامعلوم مقام پر چلا گیا ہویابیوی شوہر سے ناراض ہو کر میکے بیٹھ گئی ہوں ، یا شوہر بیرون ملک بیٹھ گیا ہو گھر والوں کی کوئی فکر نہیں، آنے کا نام نہ لیتا ہو تو آیت کریمہ کے اس بابرکت عمل کے ذریعے سے اس کی واپسی سو فیصد یقینی بنای جا سکتی ہے، ان شاءالله یہ عمل کتنا بااثر ہے اس کا تجربہ مجھے بارہا ہوا ہے،عمل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پڑھنے والا پانچ وقتی نمازی ہو،ایک ہی جگہ اور ایک ہی وقت مقرر کر لیں، عمل کرنے والا اپنی آنکھیں بند کر کے سات مرتبہ درود ابراہیمی پڑھ کر آیت کریمہ کی لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ کوئی معبود نہیں الله کے سوا وہ ذات پاک ہے ۔

بیشک میں ظالموں میں سے ہوں پوری ایک تسبیح (سو دانوں والی پڑھ لے) ، تسبیح مکمل ہونے کے بعد تصور ہی میں اس بچےیا (غائب شخص) کے چہرے اور سینے پر پھونک مار دیں، اس طرح کُل گیارہ مرتبہ(یعنی کل عمل کی تعداد 1100سو مرتبہ ہے) عمل ہر بار ١٠٠ دفعہ پڑھکر یہ عمل دُھرائیں، اور ہر مرتبہ تصور میں بچے (مطلوب ) کے چہرے اور سینے پر پھونک ماریں، میرے اللہ نے چاہا تو پہلے دن سے ہی گمشدہ بچے(مطلوب ) کے دل پر اثر ہونا شروع ہو جائے گا، عمل مکمل کرنے کے بعد کچھ دیر دعا بھی کر لیا کریں، یہی عمل روٹھے ہوئے شوہر یاروٹھی ہوئی بیوی کو منانے کے لئے بھی کرسکتے ہی ، ان شاءالله مثبت نتائج سامنے آئیں گے، اور اگر کسی نے جادو ٹونے کے ذریعے لڑائی جھگڑے کی بنیاد رکھی ہوگی تو اللہ تعالیٰ جادوٹونے کا اثر بھی ختم کر دے گا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیانکرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ایک بندے نے گناہ کیا پھر (بارگاہِ الٰہی میں) عرض کیا:اے اللہ! میرے گناہ کو بخش دے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور اُسے یقین ہے کہ اس کا رب گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے، (سُو اﷲ تعالیٰ اُسے بخش دیتا ہے) پھر دوبارہ وہ بندہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے: اے میرے رب! میرا گناہ معاف کر دے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا ہے۔

اور اُسے یقین ہے کہ اس کا رب گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے، (سو وہ اُسے پھر بخش دیتا ہے) وہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے: اے میرے رب! میرے گناہ کو معاف کر دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور اسے یقین ہے کہ اس کا رب گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر مواخذہ بھی کرتا ہے (سو اﷲتعالیٰ فرماتا ہے) تم جو چاہو کرو، میں نے تمہاری مغفرت کر دی، راوی حدیث عبدا لاعلیٰ نے کہا مجھے یاد نہیں آپ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا تھا: جو چاہو کرو۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *