اس کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ ؓ نے نبی ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ قرآن شریف میں ایک سورہ تیس آیات کی ایسی ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرتی ہے یہاں تک کہ اس کی مغفرت کروادیتی ہے اور وہ سورہ سورہ تبارک الذی یعنی سورۃ الملک ہے اس کے متعلق ایک اور بھی روایت ہے جو نبی ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ میرادل چاہتا ہے کہ یہ سورہ ہر مومن کے دل میں ہو تو اس کا وظیفہ نہایت آسان ہے کرنا آپ نے یہ ہے کہ آپ نے اول وآخر گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھ کر ایک ہی مجلس میں بیٹھ کر سورۃ الملک کو آپ نے گیارہ مرتبہ پڑھنا ہے اس کے بعدآپ کی جو بھی حاجت ہو جو بھی آپ کا مقصد ہو آپ اللہ تعالیٰ سے طلب کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں آپ کو بہت زیادہ اجر اور ثواب عطا کیا جائے گا ہر ایک آیت کے بدلہ میں آپ کو سو نفل پڑھنے کا ثواب ملے گا تو یہ آپ جب پڑھ لیں گے تو تین ہزار نوافل پڑھنے کا ایک کے بدلے میں ثواب ملے گا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

سیدنا عبداللہ ؓ سے مرفوعا مروی ہے کہ السلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اللہ نے دنیا میں رکھ دیا ہے اس لئے آپ س میں سلام کو عام کرو کیونکہ جب آدمی کسی قوم پر سلام بھیجتا ہے اور وہ اس کا جواب دیتے ہیں تو اس کے لئے ان پر فضیلت ہوتی ہے کیونکہ اس نے انہیں یاد دہانی کرائی۔اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو جو ان سے بہتر اور پاکیزہ ہے وہ اس کا جواب دیتا ہے ۔ابوذر ؓ سے مرفوعا مروی ہے کہ تم اپنے بھائی سے مسکرا کر ملو تو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور تم نیکی کا حکم کرو برائی سے روکو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور بھٹکے ہوئے کو راستہ بتاؤ یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے ۔

اور کسی نابینا کو راستہ دکھاؤ یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور راستے سے پتھر کانٹا اور ہدی ہٹاؤ تو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور تم اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈالوں تو یہ بھی تمہارے لئےآج اس زمانے میں جہاں بہت سی چیزیں تبدیل ہوئی ہیں ان میں والدین کے احترام میں کمی کو بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے چونکہ کبھی تو ہم اس طرح اپنے والدین کے ساتھ پیش آتے ہیں جیسے وہ ہمارے قرضدار ہوں یا انہوں نے ہمارے حق کو غصب کرلیا ہو۔ اور کبھی ان کی بے پناہ محبت و عطوفت کو نظرانداز کرتے ہوئے ایسے ان سے پیش آتے ہیں کہ ان کے دل میں آہ اٹھ جاتی ہے اب عاق کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ والدین علی اعلان اپنی اولاد سے برأت کا اظہار کریں بلکہ دیگر بہت سے ایسے شواہد و قرائن ہیں جن سے ان کے عاق کرنے کا علم ہوجاتا ہے

قیامت کے دن سزا ان لوگوں کو ملے گی جو کسی گناہ کبرہ کے مرتکب ہوئے ہونگے۔ لیکن اگر کسی گناہ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے مقام و منزلت کے لحاظ سے سوچیں تو پھر کوئی بھی گناہ صغیرہ نہیں ہے۔ چونکہ انسان کو یہ نہیں دیکھنا چاہیئے کہ میں نے تو چھوٹا سا گناہ کیا ہے بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ میں جس پروردگار کی معصیت کا مرتکب ہوا ہوں وہ بڑا جلیل المرتبت ہے لہذا یہ گناہ اب صغیرہ نہیں بلکہ کبیرہ ہے۔

صدقہ ہے۔انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو دروازے گناہ کے ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں جلدی ملتی ہے سرکشی و بغاوت اور نافرمانی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.