الرجی کا ایسا علاج جو آج تک کسی نے نہیں بتا یا ہو گا۔

الرجی ہونے کی کوئی خاص وجہ متعین نہیں ہوتی۔ ہر شخص کو الرجی ہونے کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن عموماً یہ گردو غبار، خوشبو، ہوا اور کسی دوا سے بھی ہوسکتی ہے۔ جبکہ بہار کے موسم میں الرجی کے بڑے اسباب میں پولن سرفہرست ہے۔ ڈاکٹرز اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پولن کی ساخت اور بناوٹ اس طرح کی ہوتی ہے کہ یہ الرجی کے مرض کا سبب بن کر انسانی اعضا کو متاثر کرتی ہے۔ جس قدر ہوا اور فضا میں پولن کی مقدار زیادہ ہوگی اسی لحاظ سے الرجی کے مرض میں بھی اضافہ ہوگا۔ پولن الرجی ایک موسمی بیماری ہے۔الرجی کے بے شمار اسباب ہوتے ہیں۔ ہماری موجودہ مصنوعی زندگی جس میں بند گھر، غیر روشن اور تاریک کمرے، کارپٹ،مصنوعی غذائیں، مشروبات اور پرفیوم وغیرہ الرجی کی چند وجوہات ہیں۔

دیہات سے زیادہ شہر میں الرجی ہوتی ہے جس کی وجہ فضائی آلودگی ہے۔ جہاں جہاں بھی صاف پانی کا فقدان ہے وہاں الرجی اور دائمی نزلہ بہت زیادہ ہے۔ پھیپھڑوں، گلے ،غدود اور ناک کے کینسر کے مریضوں کی ۷۰ فیصد وجہ الرجی اور دائمی نزلہ پائی جاتی ہے۔موسم سرما میں اس کا حملہ زیادہ ہو جاتا ہے وہ اس لیے کہ مرطوب اور بھاری ہوا کی وجہ سے جراثیم کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔ دھوپ کی کمی اور نمدار فضائیں ان جراثیم کے لیے موزوں ترین جگہ ہیں۔ جب سردی کے سبب ہمارا ناک، کان ،گلا اور نظامِ تنفس کا اوپری حصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے تو بیرونی ٹھنڈی ہوا جس میں جراثیم اور الرجی پیدا کرنے والے ذرّات ہوتے ہیں، ہمارے نظامِ تنفس میں داخل ہوکر بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین الرجی کے اسباب اور ماحول سے دور رہنے اور احتیاط کرنے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔

صاف ستھری شفاف تازہ ہوا اور کھلی فضا کے ساتھ ساتھ صفائی بہت ضروری ہے۔ تازہ ہوا کے لیے کھڑکیاں کھلی رکھنا چاہئیں۔ ایئرکنڈیشنڈ کی صفائی اورگردوغبار سے نجات بہت ضروری ہے۔ آخر موسم سرما میں الرجی اور نزلے کا علاج کیسے ممکن ہے اور وہ کون سے طریقے ہیں جنھیں اپنا کر ہم ان امراض سے محفوظ رہ سکیں۔ ایسی غذائیں جو موسمِ سرما میں ان بیماریوں کا سبب بنتی ہیں ان سے حد درجہ اجتناب ضروری ہے۔ کھٹی ٹھنڈی اور بادی چیزوں کا استعمال بالکل نہ کیا جائے۔ دورانِ سفر ٹھنڈی ہوا سے بچیں۔ اینٹی الرجی گولیاں کھاکر ہم مرض کو وقتی طورپر دبا دیتے ہیں لیکن یہ اندر ہی اندر بڑھتا اور پھیلتا رہتا ہے اور حتیٰ کہ یہ بعض اوقات اتنا بڑھ جاتا ہے۔

کہ دمہ اور دائمی سانس کی تنگی ، سانس کا پھولنا، نیند کی کمی، ٹینشن اور بے چینی کا ذریعہ بن جاتاہے۔ کچھ لوگوں کو اس سے دائمی کھانسی، خشکی اور بلغم کے ساتھ شروع ہوجاتی ہے۔ کبھی بھی مرض کو دبائیں مت بلکہ مستقل مزاجی سے کچھ عرصہ ادویات ضرور استعمال کریں۔ اگر کوئی شخص پرانی الرجی اور الرجی کے دمے میں مبتلا ہے یا پرانے نزلے ناک کا مستقل بند ہونا اور رات کو اس کی وجہ سے نیند میں خلل پڑنا جیسی بیماریوں میں مبتلا ہے تو چند قطرے روغنِ زیتون ناک کے دونوں نتھنوں میں ڈالیں اور سانس ذرا اوپر کی طرف کھینچے صرف چند روز ایسا کرنے سے بہت فائدہ ہوگا۔ اسی طرح اطریفل اسطخدوس کسی اچھے دواخانے کی بنی ہوئی ایک چمچ چائے کا

Sharing is caring!

Comments are closed.