اوجھری کھانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا اعلیٰ حضرت کا اس بارے میں‌ کوئی فتویٰ ہے؟

حلال جانور کے سات اجزاء نص حدیث سے ممنوع ہیں۔ حدیث پاک میں ہے : ما يحرم اکله من اجراء الحيوان سبعة الدم المسفوح والذکر و الانثيان، والقبل والغده والمثانه، والمرارة. جانوروں کے سات اجزاء کھانا حرام ہے۔ 1۔ بہتا ہوا خون، 2۔ آلہ تناسل، 3۔ خصیے، 4، پیشاب کی جگہ (فرج)، 5۔ گلٹی، 6۔ مثانہ، 7۔ پتہ۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مثانہ پیشاب ٹھہرنے کی جگہ ہے اور اوجھری پاخانہ (غلاظت) کی جگہ ہے۔ پیشاب نجاست خفیفہ ہے اور پاخانہ نجاست غلیظہ ہے، لہذا جس طرح مثانہ مکروہ تحریمی ہے اسی طرح اوجھری آنتیں بھی مکروہ تحریمی ہیں۔

دیگر فقہاء کے نزدیک اوجھری صرف طبعی کراہت کی وجہ سے مکرہ ہے، یعنی کراہت کےساتھ جائز ہے۔حلال جانور مثلاً گائے بھینس ،اونٹ ،بکری اور بھیڑ وغیرہ کو شرائط شرعیہ کے ساتھ ذبح کیا جائے تو اس کی اوجھری حلال ہے چاہے قربانی ہو یا عام ذبیحہ ہواور اسےحرام کہنا غلط ہے۔ قربانی کے جانوروں کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِذا وَجَبَت جُنوبُها فَكُلوا مِنها وَأَطعِمُوا القانِعَ وَالمُعتَرَّ. سورةالحج “پھر جب وہ پشت لگادیں(یعنی ذبح ہو جائیں) تو ان میں سے کھاؤ اور امیر و غریب کو کھلاؤ۔

اس آیت کے عموم سے ثابت ہے کہ ذبح شدہ جانور کا گوشت اوجھری کلیجی اور دل وغیرہ حلال ہیں اور یہاں بطور فائدہ عرض ہے کہ جس چیز کی حرمت قرآن حدیث اور اجماع یا آثار سلف صالحین سے ثابت ہے تو وہ چیزاس آیت کے عموم سے خارج ہے۔ مثلاً : 1۔وہ چیز جسے عام اہل ایمان کی طبعیتیں خبیث اور گندی سمجھیں تو آیت:

“وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ” “اور آپ( صلی اللہ علیہ وسلم )ان لوگوں پر خبیث چیزیں حرام قراردیتے ہیں” کی روسے مکروہ تحریمی یا تنزیہی ہیں۔اوجھری کا خبیث ہونا نہ تو آثار سلف صالحین سے ثابت ہے اور نہ عام اہل ایمان اس کو گندایا مکروہ و ناپسندیدہ سمجھتے تھے۔2۔وہ چیز جو چوری یا غصب کرکےحاصل کر لی جائے۔مثلاً کسی شخص کی بکری چوری کے ذبح کیا جائے تو مسلمانوں کے لیے اس کا گوشت حلال نہیں ہے الایہ کہ اصل مالک اجازت دے دے۔3

۔وہ حلال جانور جس کی خوراک ہی گندگی نجاست ہو(یعنی جلالہ جانور)اس کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے۔4۔زندہ جانور کا کٹا ہوا گوشت حرام ہے وغیرہ۔اب موضوع کی مناسبت سے چند فوائد پیش خدمت ہیں:1۔مفسر قرآن امام مجاہد تابعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے:”عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ مِنَ الشَّاةِ سَبْعًا : الدَّمَ ، وَالْحَيَا ، وَالأُنْثَيَيْنِ ، وَالْغُدَّةَ ، وَالذَّكَرَ ، وَالْمَثَانَةَ ، وَالْمَرَارَةَ ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ مِنَ الشَّاةِ مُقَدَّمَهَا”بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکری کی سات چیزوں کو مکروہ سمجھتے تھے۔مثانہ پتا غدہ(گوشت کی گرہ جو کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے ابھرآتی ہے)آلہ تناسل کھر اور سم والے جانوروں کی فرج(شرمگاہ)اور دونوں خصیے۔(کتاب المراسیل لابی داؤد یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے: اول:واصل بن ابی جمیل جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔

مثلاً امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا دوم:روایت مرسل (یعنی منقطع)ہے اور مرسل جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہوتی ہے۔ روایت مذکورہ کو عمر بن موسیٰ بن وجیہ نے واصل بن ابی جمیل عن مجاہد ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سند سے مرفوعاً بیان کیا ہےلیکن عمر بن موسیٰ بن وجیہ کذاب منکر الحدیث راوی تھا لہٰذا یہ روایت موضوع ہے۔المعجم الاوسط للطبرانی میں اس روایت کا ایک شاہد بھی ہے۔

اس کے استاد عبدالرحمٰن بن ابی سلمہ سے مراد عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم ہے اور اس کی روایات اس کے باپ سے موضوع ہوتی ہیں اور یہ روایت بھی اس کے باپ سے ہے لہٰذا موضوع ہے۔ علاء الدین ابو بکر بن مسعود الکاسانی الحنفی (متوفی 587ھ)نے بغیر کسی سند کے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ خون حرام ہے اور میں چھ چیزوں کو مکروہ سمجھتا ہوں۔(بدائع الصنائع 5/61) یہ روایت قابل اعتماد صحیح و حسن سند نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے اور چھ چیزوں سے مراد ضعیف حدیث میں بیان شدہ خون کے علاوہ چھ چیزیں ہیں، جس کی تحقیق تھوڑا پہلے گزر چکی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *