اُس رات آنکھ کھلی تو دیور نے زبر دستی میری۔۔

آج میں آپ کو ایک معصوم لڑکی پر بیتی دکھ بھری ایک سچی کہانی بتانے جا رہی ہوں۔ میں دروازے سے چھپ چھپ کر دیکھ رہی تھی اس کی حالت دیکھ کر میری چیخ نکلنے لگی جسے میں نے اپنے دونو ہاتھوں سے با مشکل روکا بھائی کی نظر مجھ پر نہ پڑی بھائی کے کپڑے خون سے لت پت تھے اور ان کے ہاتھ میں جو ڈنڈا تھا وہ بھی خون سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ بھائی عاصم کی زندگی کی ڈور کاٹ آ ئے ہیں میرا بھائی تو مجھ سے بے پناہ محبت کرتا تھا میرے لیے ہر وقت جان دینے کو تیار رہتا تھا مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میرا بھائی میری ہی خوشیوں کا قاتل ہو سکتا ہے۔

ابھی تھوڑی دیر پہلے کی بات تھی جب میں اور عاصم باغ میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ہم دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے تھے ہمارا یوں چھپ کر ملنا معمول تھا لیکن نا جانے کیسے آج بھائی نے دیکھ لیا مجھے اس کے ساتھ بھائی کی آنکھوں میں خون آ گیا بھائی کو وہاں دیکھ کر میری دل کی دھڑ کن تیز ہو گئی سانس نا ہموار ہونے لگی کیو نکہ میں جانتی تھی اس کا انجام بہت برا ہونے والا ہے اس سے پہلے کہ میں عاصم کو وہاں سے بھگاتی بھائی تیزی سے میری طرف بڑ ھا مجھے بازو سے گھسیٹتا ہوا گاڑی تک لے آیا اور ڈرائیور کو کہا کہ مجھے فوراً گھر لے جا یا جائے اور کمرے میں بند کر دیا جائے اس نے اپنے صاحب کے حکم کی بجا آوری کی میرے بھائی کے ساتھ اور بھی لوگ تھے جنہوں نے عاصم کو گھیر رکھا تھا گھر کے سارے راستے میں میں ڈرائیور کی منتیں کر تی رہیں۔

کہ خدا کے لیے مجھے واپس لے چلو لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا آج مجھے میرے بھائی سمیت اس حویلی کا ہر شخص ظالم لگ رہا تھا ابھی مجھے گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا کہ میرا بھائی میرے سامنے تھا بہن کی خوشیوں کا محافظ آج بہن کی خوشیوں کا قتل کر کے آیا تھا میرا جی چا ہا کہ میں دھا ڑیں مار مار کر روؤں مگر میں بے بس یہ سب دیکھتی رہی اور افسوس سے کہتی ہوں کہ میں عاصم کے لیے کچھ بھی نہ کر سکی۔ عاصم مجھ سے بہت ہی محبت کرتا تھا اور میں بھی اس سے بہت ہی زیادہ محبت کرتی تھی اور ہم بہت جلد ہی شادی کر نے والے تھے لیکن قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ عاصم کی زندگی کی ڈور کٹ چکی تھی اور میں نے وہی کیا اب میرے پاس کچھ نہیں بچا تھا۔

جس کی مجھے پرواہ ہوتی میں وہیں دروازے کے پاس زمین پر بیٹھ گئی اور زور زور سے رونے لگی میرا دماغ سن ہو چکا تھا اوروجود میں ذرا بھی حرکت نہیں تھی تقریباً دو گھنٹے روتے روتے گزر گئے پھر اچانک میرے سامنے دھند چھانے لگی تقریباً پانچ گھنٹوں بعد جب میری آنکھ کھلی تو میں اپنے کمرے کے بستر پر تھی میرے سامنے ایک ملازمہ پانی کا گلاس لیے کھڑی تھی مگر میرا دل اب ہر چیز سے عاری ہو چکا تھا۔ ملازمہ نے میری طرف پانی کا گلاس بڑھایا مگر میری آنکھوں میں بس عاصم کا چہرہ بسا ہوا تھا اس گھر کی ہر چیز کو میں اپنے اوپر حرام سمجھ چکی تھی میں نے تیزی سے نوکرانی کے ہاتھ میں پکڑا گلاس ایک جھٹکے سے نیچے پھینک دیا اور پھر رونے لگی میرے آنسو اور میری چیخ و پکار میرے بس میں نہیں تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *