ایسی قربانی پر اللہ پاک کی لعنت برستی ہیں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم السلام علیکم ناظرین عیدالاضحیٰ کی خصوصی ویڈیو کے ساتھ آج ہم پھر حاضر خدمت ہیں اور خلق خدا ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے جیسے کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ عید الاضحی سر پر ہے اور آپ سبھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق عید کا جانور لینے میں مصروف ہوں گے کسی کو اللہ نے زیادہ ہوسکتی ہے تو وہ بڑا جانور جیسے بیل گائے یا اونٹ لے گا اور کوئی بکرا بھیڑیا تم بھی کی قربانی کا خواہش مند ہو گا کوئی بڑے جانور میں حصہ لے گا تو کوئی بے بس و لاچار انسانوں ہی ہوگا جو یہ عید اپنے دل میں قربانی کی حسرت لئے بڑی خاموشی سے اپنے بچوں کے ہمراہ گزار دے گا اور سارے مسلمانوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ قربانی کریں اور تمام قربانیاں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں قبول بھی ہو تاہم کیا آپ جانتے ہیں کہ تمام شرعی باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور بانی کرنے والوں کی قربانیوں میں سے بعض قربانیاں اللہ کے یہاں کیوں منظور نہیں ہوتی اس کی

کیا وجوہات ہیں کیسے آپ اپنی قربانی کو اللہ کے ہاں مقبول کروا سکتے ہیں نظریے کا نام ایک خطبہ عید قربان کے دن ایک شخص نے حضرت علی سے سوال کیا یا علی وہ کون سے قربانی ہے جس میں کوئی شخص جانور لینے سے لے کر قربانی کرنے تک حل شریعت کے مطابق مگر پھر بھی وہ قربانی قبول نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی ناراضی کا سبب بنتی ہے اس شخص کا یہ سوال کرنا ہی تھا کہ آپ کے المبارک میں جنبش ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یاد رکھو کہ اللہ نے قربانی کو اس لیے عزیز رکھا تاکہ اللہ کے وہ غریب بندے جو پورا سال گوشت نہیں کھاتے وہ بھی اس عید کے دن پیٹ پر گوشت کھانا اللہ اس قربانی کے وسیلے سے انسان کو محبت امن اور بھائی چارہ سکھانا چاہتا ہے ایسی قربانی کو قبول نہیں کرتا جس نے والے اپنے معاشرے کو مور لے کر کوکندھا کرتے ہیں یاد رکھیے کہ اپنے جانوروں کی قربانی اس طرح سے کرنا ہے کہ اس کے خون سے تمہارا معاملہ تمہارا شہر الوداع نہ ہو ایسا نہ ہو کہ قربانی کے بعد گوشت تو تم بڑے احترام کے ساتھ تقسیم کرو مگر جانور کا خون اور اس کے جسم کے وہ حصے جو کھانے کے قابل نہیں وہ گلیوں میں یوں ہی پھینک دو روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا

ایسا نہ ہو کہ تمہاری اس عمل سے ماحول میں آلودگی پھیلنے تھے اور تمہاری یہ نیکی اللہ کے دربار میں قبول نہ ہو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جیسے قربانی کے بعد گوشت کو تقسیم کرنا عبادت ہے ویسے ہی قربانی کے جانور کے خون اور اس کی آلائش کو بھی ایسے دور دراز جگہ پہنچایا جائے کہ جس سے ماحول آلودہ نہ ہو اور زمانے میں بیماریاں پھیلاتے ہیں بھی ایک عظیم عبادت ہے اگر کوئی انسان جانور کو کاٹنے کے بعد صفائی نہیں رکھتا اور جانوروں کی الائش کو بے پرواہی سے باہر پھینک دیتا ہے اور اسے ماحول آلودہ ہو کر بیماریاں پھیلتی ہیں ان بیماریوں سے جو انسان بیمار ہو گا ان سب کا گناہ اور جس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور وہ انسان اللہ کی راہ میں قربانی کرنے کے بعد بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہونے لگے گا اپنا اور دوسروں کا خیال رکھیے اور عیدالاضحی کے موقع پر صفائی کا بھی خاص خیال رکھیں اللہ حافظ

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *