ایک مجبور اور بے بس ماں۔۔۔؟

ایک عورت کو اللہ ہر بار اولاد نرینہ سے نوازتا مگر چند ماہ بعد وہ بچہ فوت ہوجاتا لیکن وہ عورت ہر بار صبر کرتی اور اللہ کی حکت سے راضی رہتی تھی۔ مگر اس کے صبر کا امتحان طویل ہوتا گیا اور اسی طرح ایک کے بعد ایک اس عورت کے دس بچے فوت ہوئے۔ آخری بچے کے فوت ہونے پر اس کے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ آدھی رات کو زندہ لاش کی طرح اٹھی اور اپنے خالق حقیقی کے سامنے سر سجدے میں رکھ کر خو ب روئی اور اپنا غم بیان کرتے ہوئے کہا، اے کون ومکاں کے مالک! تیر ی اس گناہگار بندی سے کیا خطا ہوئی کہ سال میں نو مہینے خون جگر دے کر اس بچے کی تکلیف اٹھاتی ہوں اور جب امید کا درخت پھل لاتا ہے تو صرف چند ماہ اس کی بہار دیکھنا نصیب ہوتی ہے۔

آئے دن میرا دل غم کا شکار رہتا ہے کہ میرا بچہ پروان چڑھے گا بھی کہ نہیں ۔ اے دکھی دلوں کے بھید جاننے والے! مجھ کمزور پر اپنا لطف و کرم فرمادے۔ روتے روتے اسے اونگھ آگئی۔ خواب میں ایک شگفتہ پر بہار باغ دیکھا جس میں وہ سیر کررہی تھی کہ سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ایک محل نظر آیا جس کے اوپر اس عورت کا نام لکھا ہوا تھا۔ باغات اور تجلیات دیکھ کر وہ عورت خوشی سے بے خود ہو گئی۔ محل کے اندر جاکر دیکھا تو اس میں ہر طرح کی نعمت موجود تھی ۔ اور اس کے تمام بچے بھی اسی محل میں موجود تھے جو اسے وہاں دیکھ کے خوشی سے جھوم اٹھے تھے ۔ پھر اس عورت نے ایک غیبی آواز سنی کہ تو نے اپنے بچوں کے مرنے پر جو صبر کیا تھا یہ سب اس کا اجر ہےخوشی کی اس لہر سے اس کی آنکھ کھل گئی۔

جب وہ خواب سے بیدار ہوئی تو اس کا سارا ملال جاتا رہا اور اس نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے عرض کیا، یا الہیٰ اب اگر توا س سے بھی زیادہ میرا خون بہادے تو بھی میں راضی ہوں۔ اب اگر تو سینکڑوں سال بھی مجھے اسی طرح رکھے تو مجھے کوئی غم نہیں ۔ یہ انعامات تو میرے صبر سے کہیں زیادہ ہیں۔اس حکایت سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رکھنا چاہیے کیونکہ یہی چیز انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے ۔ مصیبتیں ، پریشانیاں اور دکھ یہ اللہ اپنے بندوں پر اس لیے بھیجتا ہے کہ وہ ان کے درجات بلند کر نا چا ہتا ہے۔ صبر کرنا ولیوں اور پیغمبروں کا شیوہ ہے۔ صبر کرنے سے انسان ایسے درجات پالیتا ہے جو بڑے بڑے عبادت گزار نہیں پاسکتے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *