حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: محرم کا چاند دیکھ کر یہ عمل کرلو

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک پریشان حال آیا ۔ اور عرض کرنے لگا اے امام علی ! میری مدد کریں۔ مجھے کچھ ایسا عمل بتائیں ۔ مجھے دولت ملے۔ مجھے سکون ملے۔ خوشحالی ملے۔ میں بہت پریشان ہوں۔ ا س پریشانی نے میری کمر توڑ رکھی ہے۔ اب یہ شخص اپنے شکوے ، شکایت ، سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کررہاتھا۔ تو حضرت امام علی رضی اللہ عنہ سمجھ گئے۔ امام علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے شخص ! جب مسلمانوں کا پہلا مہینہ آیا۔ یعنی محرم الحرام کا مہینہ آئے۔ تو محرم الحرام کا چاند دیکھو او رچاند دیکھنے کے بعد تم ایک جگہ باوضو حالت میں بیٹھ کر ایک مرتبہ ” سورت الرحمن ” پڑھو۔ اور کسی سے بھی بات چیت نہ کرو۔ اور کوئی بھی گفتگو نہ کرو۔ اور اس کے بعد اللہ پاک کے پیارے محبوب سرورکونین نبی آخری الزاماں حضرت محمد مصطفی ٰﷺ کی ذات مبارکہ پر درود پاک پڑھو۔ کم ازکم گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھو۔ پھر اپنی دعا اپنی التجاء کو اللہ کی دربار پیش کرو۔

جب تم عشاء کی نماز پڑھو۔ تواللہ پاک کے کرم سے تمہاری وہ دعا وہ التجاء اللہ کے دربار میں قبول ہوچکی ہوگی۔ تم جو کچھ مانگو گے ۔ دولت مانگو ۔ دولت ملے گی۔ سکون مانگوگے۔ سکون ملے گا۔ خوشحالی مانگو گے ۔خوشحالی ملے گی۔ جو تم مانگو گے وہ تمہیں اللہ تعالیٰ عطافرمائےگا۔ اللہ تعالیٰ تمہاری کوئی دعارد نہیں کرے گا۔ آپ میں سے جو کوئی پریشان حال ہے ۔ محرم الحرام کا مہینہ آیا ہے۔ کوئی رزق کی تنگی کی وجہ سے پریشان ہے۔ کوئی گھر میں بے سکونی کی وجہ سے پریشان ہے ۔ کوئی اولا د کی محرومی سے پریشان ہے۔ اگر کوئی سورت الرحمن پڑھ کر ، درود پاک پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا۔ اللہ تعالیٰ کے دربارمیں اپنی التجاء کر ےگا۔ اللہ کبھی بھی اس کی دعا کو رد نہیں کرےگا۔ رزق کے معاملے میں تو انسان کو ویسے بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ سور ت ہود کی آیت نمبر چھ میں ارشاد فرماتا ہے : اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کےذمہ کرم پر نہ ہو۔ ہم تو اشرف المخلوقات ہیں۔ ہمیں اللہ کی ذات پر توکل کرنا چاہیے۔ بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کارزق اپنے ذمہ لیا ہو۔ اس لیے رزق کےمعاملےمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ سورت الجمعہ کی آخری آیات مبارکہ میں ارشاد ہے : اور اللہ بہتر رزق دینے والا ہے۔ اس کا اندازہ آپ مرغی توکل سے لگا لیں۔

جب بھی آپ مرغی کو پانی دیں گے۔ جب بھی پینے کے لیے مرغی کو پانی دیا جاتا ہے۔تو وہ اپنی پیاس کے مطابق پانی پی کر باقی پانی کو ضائع کردیتی ہے۔ اپنے اس برتن کو الٹ دیتی ہے کیونکہ اس کو پتہ ہے جس ذات نے پانی دیا ہے بعد میں بھی وہ پلائےگا۔ ہم انسان اشر ف المخلوقات ہو کر ہمارے اندر توکل بھروسہ نام کی چیز نہیں ہے۔ اور ہم دن رات رزق کےلیے کتنی محنت ، کتنی جدوجہد کرتے ہیں حالانکہ ہمیں رزق کے لیے نہیں بلکہ آخرت کےلیے فکر کرنی چاہیے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.