حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تکبر سےانسان کے مرتبہ میں کمی واقع ہوتی ہے۔

جوشخص اپنے نفس پر مغرور ہوتا ہے۔ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ برائی جس کے کرنےسے تمہارا دل ملول ہو ۔ اس نیکی سے کئی گن اہ بہتر ہے۔ جس کے کرنے پر تمہیں غرور ہو۔ جو شخص امیدوں پرمغرور رہتا ہے۔ وہ دھوکے میں مبتلا ہے۔ دنیا میں خوبصورت دل تلاش کرو۔ چہرے نہیں کیونکہ خوبصورت چہرے تو بہت ہیں ۔ لیکن خوبصورت دل بہت کم ۔ تنگی اور تکلیف کےآنے سے پہلے نیک کام میں جلدی کرو۔ دشمن سے مشورہ نہ کرو۔ بلکہ اس سے اپنی بات کا پردہ رکھو اور اپنے کنبے اور مال کو تکلیف میں مت ڈالو، کہ وہ تیری جان کو آجائے۔ داناؤں کی صحبت اختیار کرو۔ تاکہ تمہاری عقل کامل ہو۔ ہر آدمی کی رائے اس کےذاتی تجربے کے مطابق ہوتی ہے۔ تنگدستی نفس کے لیے ذلت کاباعث ہے۔ جس کانفس حریص ہے وہ دولتمند ہونے کے باوجود تنگدست ہے۔

ڈر ناکامی سے ملا ہوا ہے۔ برے انسان کی صحبت سے پرہیز کرو۔ کیونکہ وہ تلوار کی طرح ہے دیکھنے میں خوبصورت اور اثر میں خطرناک ہے۔ بہت سے لوگ اس وجہ سے فتنہ میں مبتلا ہوجاتےہیں۔ کہ ان کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ جب گن اہوں کےباوجود اللہ تعالیٰ کی نعمتیں مسلسل تجھے ملتی رہیں ، تو ہوشیار ہوجانا، کہ تیرا حساب قریب اور سخت ترین ہے۔ جب جسموں پرخواہشات کی حکمرانی ہوتی ہے۔ وہ گن اہوں کی قید سے کبھی آزاد نہیں ہوسکتے۔ عبادت ایسی کرو جس سے روح کو مزہ آئے، کیونکہ جو عبادت دنیا میں مزہ نہ دے۔ وہ آخرت میں کیاجزادے گی۔ کسی نے آپ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کہ سب سے بڑھ کر بے عیب کون ہے؟ توآپ نے فرمایا: جس نے عقل کو اپنا امیر ، صبرکو اپنا قائد، تقویٰ کو اپنا نگہبان ، خوف خدا کو اپنا ساتھی اور م و ت ومصیبت کو اپنا دوست بنایا۔ آپ کا رنگ نماز کا وقت ہوتے ہی پیلا پڑجاتا ہے اور کانپنے لگتا ہے ایسی حالت میں جب آپ سے سبب پوچھا جاتا تو فرماتے اس امانت کاوقت آن پہنچا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *