”حضور ؐ نے فرمایا جو شخص صرف 3بار یہ دعا پڑھے گا“

جو ایمان والا تین مرتبہ فجر کی نماز کے بعد یہ تسبیح پڑھے گا انہیں ان چار بیماریوں سے نجات مل جائیگی

.چا ر بیماریوں میں پہلی بیماری پاگل پن ہے ،یہ تسبیح پڑھنے سے کسی بھی شخص کو ذہنی بیماری نہیں ہوگی. اللہ تعالی تمہیں پاگل نہیں بنائے گا. بزرگوں کے مطابق جن لوگوں کو مرگی یا بھولنے کی بیماری ہے وہ بھی شفایا ب ہوجائیگا.دوسریبیماری کوڑھ پن کی ہے .یہ تسبیح پڑھنے سے جلد سے متعلقہ کوئی بیماری نہیں ہوگی .کچھ لوگوں کو چہرے پر دانے ،پھنسی وغیرہ نکل آتے ہیں

یا ان کا رنگ کالا ہوجاتا ہے یہ تسبیح ضرور پڑھیں .تیسری بیماری اندھے پن کی بیماری ہے ،اگر آپ کو کم نظر آتا ہے .تو یہ تسبیح ضرور پڑھیں . چوتھی بیماری فالج کی بیماری ہےجن افراد کے ہاتھ پاؤں اچانک کام نہیں کرتے وہ بھی یہ تسبیح ضرورپڑھیں .آئیے اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ وہ تسبیح کون سی ہے(سبحان اللہ عظیم و بحمدہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ)یہ تسبیح ہر روز3مرتبہ نماز فجر کے بعد پڑھیں انہیں ان چار بیماریوں سے نجات مل جائیگی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، امراض میں چھوت چھات صفر اور الو کی نحوست کی کوئی اصل نہیں اس پر ایک اعرابی بولا کہ یا رسول اللہ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح (صاف اور خوب چکنے) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امراض میں چھوت چھات (متعدی ہونا ) صفر اور الو کی نحو ست کی کوئی اصل نہیں ،اس پر ایک اعرابی بولا کہ کہ یا رسول اللہ ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہوگیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہر نوں کی طرح ( صاف اور خوب چکنے ) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آجاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے

تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی ؟مرض کا متعدی ہونا اور ماہِ صفر کے سلسلے میں موجود بداعتقادی پر نکیر ہے، اہل جاہلیت کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے بغیر بیماری خود سے متعدی ہوتی ہے، یعنی خود سے پھیل جاتی ہے، اسلام نے ان کے اس اعتقاد باطل کو غلط ٹھہرایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لاعدوى» یعنی ” بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی “۔

اور اس کے لیے سب سے پہلے اونٹ کو کھجلی کی بیماری کیسے لگی، کی بات کہہ کر سمجھایا اور بتایا کہ کسی بیماری کا لاحق ہونا اور اس بیماری سے شفاء دینا یہ سب اللہ رب العالمین کے حکم سے ہے وہی مسبب الاسباب ہے۔ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے،

دوسری چیز جس کی نفی کی گئی وہ ہے «ھامہ» یعنی الو کی نحوست نہیں ہے، الو کو دن میں دکھائی نہیں دیتا ہے، تو وہ رات کو نکلتا ہے، اور اکثر ویرانوں میں رہتا ہے، عرب لوگ اس کو منحوس جانتے تھے، اور بعض یہ سمجھتے تھے کہ مقتول کی روح الو بن کر پکارتی پھرتی ہے، جب اس کا بدلہ لے لیا جاتا ہے تو وہ اڑ جاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال کو باطل قرار دیا، اور فرمایا: «و ولاهامة» ، آج بھی الو کی نحوست کا اعتقاد باطل بہت سے لوگوں کے یہاں پایا جاتا ہے، جو جاہلیت کی بداعتقادی ہے، اسی طرح صفر کے مہینے کو جاہلیت کے زمانے میں لوگ منحوس قرار دیتے تھے، اور جاہل عوام اب تک اسے منحوس جانتے ہیں،تیسری چیز جس کی نفی فرمائی وہ ماہِ صفر کے مہینے کے متعلق نحوست کا عقیدہ ہے یہ بھی لغو ہے، صفر کا مہینہ اور مہینوں کی طرح ہے، کچھ فرق نہیں ہے۔

یہ بھی آتا ہے کہ عرب ماہ محرم کی جگہ صفر کو حرمت والا مہینہ بنا لیتے تھے، اسلام میں یہ بھی باطل، اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ عربوں کے اعتقاد میں پیٹ میں ایک سانپ ہوتا تھا جس کو صفر کہا جاتا ہے، بھوک کے وقت وہ پیدا ہوتا ہے اور آدمی کو ایذا پہنچاتا ہے، اور ان کے اعتقاد میں یہ متعدی مرض تھا، تو اسلام نے اس کو باطل قرار دیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.