حیض ٹائم پر نہ آئے یا آتا ہی نہ ہو تو بغیر کسی میڈیکل علاج کے نارمل آنے لگ جائے گا

ماہواری کی بے قاعدگی کا مسئلہ عورتوں میں عام ہے۔ایسے میں ایک ماہواری سے دوسری ماہواری تک کا وقفہ ۳۵ دن سے زیادہ ہوجاتا ہے۔اصولی طور پر دو ماہواری کا وقفہ۲۱ سے ۳۵ دن تک کاہونا چاہیے۔ جب کہ یہ دوسے سات دن تک جاری رہتا ہے۔ عام طور پر ایک عورت کو سال میں گیارہ سے تیرہ ماہواریاں ہوتی ہیں۔لیکن ماہواری کی بے قاعدگی کا شکارعورتوں کو سال میں چھ سے سات مرتبہ یا اس سے بھی کم ماہواری ہوتی ہے۔اس میں یا تو ایک ماہواری سے دوسری ماہواری کا وقفہ طویل ہو جاتا ہے یا پیریڈز کا وقت سات دن سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے،اس کے علاوہ غیر معمولی خ۔ون کا اخراج(عام اخراج سے کم یازیادہ )بھی ماہواری کی بے قائدگیوں میں شامل ہے۔

اس مسئلے کی کئی وجوہات ہیں،ان میں کھانے میں بے قاعدگی،وزن کا حد سے زیادہ بڑھنا یا گھٹنا،خون کی کمی،حیض کے دائمی طور پر بند ہونے کا وقت قریب آنا(مینو پوز)،تھائیرائڈ کی بے ترتیبی اور ہارمونز کا متوازن نہ ہونا شامل ہے۔ اس کے علاوہ جگر کی بیماری،ٹی بی،آنتوں میں سوزش، شوگر یا حال ہی میں بچے کی ولادت یا حمل گر جانااور دوسری صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔اسی طرح زیادہ ورزش ،س۔گریٹ نوشی،الکوحل کا استعمال ،سفر،ذہنی دباؤاور بعض دواؤں کا استعمال اور مانع ح۔مل گولیاں بھی اس مسئلے کا سبب بن سکتی ہیں۔ماہواری کی بے قاعدگی شروع کے چند سالوں میں یا حیض بند ہونے سے پہلے ہوتی ہے۔مزید یہ کہ ہر عورت کا اپنا ایک انفرادی نظام ہوتا ہے۔لہذا معمولی بے قاعدگی میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری نہیں۔

: ماہواری کو با قاعدہ بنانے کے لئے کچھ گھریلو علاج تحریر کئے جا رہے ہیں

ادرک کا استعمال ماہوار ی کو صحیح کرنے کے ساتھ اس کے درد سے بھی نجات دلاتا ہے اور دیر سے ہونے والی ماہواری کو صحیح وقت پر لے آتا ہے۔۔ڈیڑھ چائے کا چمچ تازہ پسی ہوئی ادرک کو ایک کپ پانی میں پانچ سے سات منٹ تک ابالیں۔۔تھوڑی چینی ملالیں۔دن میں تین مرتبہ ہر کھانے کے بعد پی لیں۔ایک مہینہ یا اس سے زیادہ استعمال کریں۔

دار چینی گرم تاثیر رکھتی ہے، ماہواری میں ہونے والی اکڑاہٹ کو دور کرتی ہے۔انسولین کی مقدار کو متوازن کرتی ہے جو پیریڈزکی باقاعدگی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کے جن خواتین کی اووریز میں پولی سسٹ بن جاتی ہے اس میں بھی یہ فائدہ مند ہے۔اور ماہواری کو جا ری کرتی ہے۔۔ڈیڑھ چائے کا چمچ دارچینی پاؤڈرایک گلاس دودھ میں ملائیں،اور روزانہ کئی ہفتوں تک استعمال کریں۔۔دارچینی کی چائے بھی پی سکتے ہیں،یا دارچینی پاؤڈر اپنے کھانے میں چھڑک کر کھائیں۔یا دارچینی کا ٹکڑاروزانہ چبا کر کھائیں۔تل ہارمونز کی مقدار کو مناسب کرتے ہیں جس سے ماہواری وقت پر ہوتی ہے،یہ ہارمونز کی زیادتی کو روکتے اور کمی کو پورا کرتے ہیں۔گڑکی تاثیر بھی گرم ہوتی ہے۔اور یہ بھی ماہواری کو آسان اور باقاعدہ بناتا ہے۔۔ایک مٹھی تل کو سوکھا بھون لیں۔۔ایک چائے کا چمچ گڑ اور تل ملا کر پیس کر پاؤڈر بنالیں۔۔روزانہ ایک چمچ نہارمنہ کھائیں۔دونوں ماہواریوں کے درمیانی حصے میں یا ماہواری سے دو ہفتہ پہلے شروع کریں۔کچھ ماہ تک جاری رکھیںخالی گڑ کا ایک ٹکڑا روزانہ کھانے سے بھی یہ نظام ٹھیک رہے گا۔نوٹ:ماہواری کے دوران یہ دوا استعمال نہ کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *