خبردار!کبھی بھی آلو فریج میں نہ

ٹیکنالوجی نے جوں جوں ترقی کی اور اس کے ساتھ کئی ایجادات نے بھی جنم لیا۔ انسان اپنی آسانی کےلیے ایسی اشیاء تیار کی ہیں۔ جو اس کے لیے سہولت کاباعث بنیں۔ ریفریجریٹر بھی اس کی ایک مثال ہے ہمارے ہاں ایک معمول بن چکا ہے کہ ہر چیز کو فریج میں ٹھوس دیا جاتا ہے۔ اب تو خواتین کو  فریج کی اس قدر عاد ت ہوچکی  ہے کہ بچوں کے سیرپ سے لے کر اپنی جیولری تک  کےلیے وہ اسے قابل اعتماد سمجھتی ہیں۔ بلاشبہ فریج ایک کارآمد چیز ہے جس کااستعمال سود مند ہے۔ مگر ضروری نہیں کہ ہر چیز کےلیے فریج ہی بہترین جگہ ہو۔ لوگوں کی اکثریت  یہ سوچ کر مختلف غذاؤ ں کو فریج میں رکھ دیتے ہیں کہ اس طرح یہ تروتازہ رہیں گی۔ اور ان کا ذائقہ  بھی برقرار رہے گا۔

مگر وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ کئی غذاؤں کو فریج میں رکھنا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس عمل سے یہ غذائیں اپنی افادیت یا ذائقہ کھو دیتی ہیں ۔ بلکہ بعض معاملات میں یہ نقصان کا باعث بھی بنتا ہے۔ بعض لوگوں کو فریج میں رکھی چیزیں نوش رکھنے کی عادت ہسپتال کی بسترپر لے جاتی ہے۔ آج آپ کو آلو ؤں کو فریج میں رکھنے کے نقصانات سے آگاہ کریں گے۔ مزیدار چپس اور ہر سبزی کا مزہ دوبالاکرنےوالے کو آلو کو شاید ہی کوئی ناپسند کرتا ہو۔ آلو ان چند سبزیوں میں سے ایک ہے۔ جو ہرموسم میں پائی جاتی ہیں۔ آلو ایک قیمتی سبزی  ہے۔ یہ جسم کو غذائی اجزاء مہیا کرتی ہیں۔ آلو میں نشاستہ پایا جاتا ہے۔ جو کہ جسم کو انرجی فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ ہے اس میں بہت سے وٹامنز اور معدنیات  موجود ہوتے ہیں۔

جیسے فائبرز، کیلشیم ،آئرن وغیرہ ۔ سرد درجہ حرارت آلو میں موجود نشاستہ  کو شکر میں  تبدیل ہونے سے روکتا ہے۔ جس سے آلو کا قدرتی ذائقہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ فریج میں عموماً پینتیس ڈگری سے اٹھاتیس  تک ہوتا  ہے۔ جبکہ آلو  کو محفوظ رکھنے کے لیے پینتالیس ڈگری بہترین درجہ حرارت ہے۔ ماہرین نے تحقیقات سے ثابت کیا ہے کہ اگر اس کو فریج میں رکھا جائے تو اس میں ایک ایسا مادہ پیدا ہوجاتا ہے جو  کہ کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نےخبردار کیا ہے کہ آلوؤں کو کبھی بھی فریج میں نہیں رکھنا چاہیے۔ کیونکہ جب اس کو فریج میں رکھاجاتا ہے۔ تو اس میں موجود نشاستہ چینی  میں تبدیل ہوجاتا ہے

جب ان آلوؤں  کو پکایا یا تلا جاتا ہے تو یہ چینی امائینوایسڈ کے ساتھ مل کر ایک کیمیکل خارج کرتے  ہیں جو کہ انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اس کے علاوہ ماہرین کہتے ہیں کہ سورج کو آلوؤں کی روشنی میں بھی نہ رکھیں ۔ سورج کی روشنی بہت جلد ہی آلوؤں کو  خراب کرسکتی ہے۔ اس لیے انہیں نسبتا ً ٹھنڈ ی تاریک جگہ پر دھوئے بنا محفوظ کرنا چاہیے ممکن ہو تو ان کو کسی بوری یا کاغذ کی تھیلے میں رکھیں۔جہاں بوقت ضرورت استعمال میں لایا جاسکے ۔ اور استعمال کے وقت اس کو دھو کر ہلکا سا چھلکا اتاریں ۔ زیادہ نہ اتاریں  ۔ کیونکہ اس کے  چھلکے بھی فوائد سے مالا مال ہوتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.