دو تسبیح پڑھیے! اولادِ نرینہ پا ئیے! چند منٹوں کے عمل نے بے اولاد کو با اولاد بنا دیا

میرے والد صاحب کے استاد تھے مو لا نا عبد العزیز صاحب استاد عبدالعزیز صاحب تو میں چھوٹا سا تھا مجھے یاد ہے۔ وہ بیٹھ کے نا میرے کان مروڑتے تھے اور
کچھ باتیں کر تے تھے میں ہوں گا کوئی دس بارہ سال آٹھ دس سال غالباً ان کے لیے ایک بات یاد آ ئی بڑے عرصے کے بعد شاید میں پہلی دفعہ عرض کر رہا ہوں اللہ کمی پیشی معاف کر ے جنت البقیع میں مدفون ہیں ان کا وسائل جلدی ہو گیا۔ ایک بستی کے رہنے والے تھے ۔

والد کہتے تھے بکریاں چراتے تھے جانوروں کا گھاس کاٹ ان کا گوبر اُٹھا ان کو علم پڑھنے کا شوق تھا علم پڑھنے کا شوق تھا۔ وہاں ایک صاحب ِ علم تھے ان کے پاس یہ جا تے ۔ اور جا کر ان سے علم پڑھتے سبق لے آ تے پھر سارا دن بکریاں بھی چراتے سبق بھی یاد کر تے بہت غریب تھے کبھی کبھی بکری ادھر اُدھر بھاگ جا تی۔ کیونکہ اس لیے سارے انبیاء کو بکریاں چروائی گئیں بکری بھاگنے والا جانور اور بھیڑ بچاری سر نیچے ہو تا ہے۔ تو پھر والد مارتے بھی تھے س ز ا بھی دیتے تھے ڈانٹتے بھی تھے۔ یہ باتیں میں نے ان سے خود سنی ہیں۔ ان سے سنی ہیں۔

کہتے تھے کہ میں علم پڑھ گیا علم پڑھتے پڑھتے آخر والد نے اجازت دے دی اچھا تیرا اتنا شوق ہے تو پڑھ والد کی اجازت پھر میں شہر آ گیا میں نے مرغیاں رکھ لیں انڈے بیچتا تھا۔ کچھ مزدوری کر تا تھا نوکری کر تا تھا پھر یہ ساری چیزیں کر کے میں نے گھر بار بچے بچے بھی بہت سارے تھے کہا کہ مجھے ہمارے ایک درویش تھے انہوں نے کھلونے بڑے حضرت جو حضرت خلیفہ ؓ بڑے بزرگ تھے ایک دفعہ میں چھوٹا تھا ان کی خدمت میں حاضر ہوا بزرگوں کو ملنے دیکھنے کا شوق تھا وہ کسی کو بتا رہے تھے بس میں نے سن لیا ان کی کوئی اجازت تھی وہ کسی کو فرما رہے تھے کہ دو تسبیح قل ھو اللہ کی بسم اللہ کے ساتھ درود شریف صبح و شام پڑھ کے تو فرمانے لگے

یہ سورۃ اخلاص دو تسبیح پڑھ کے یہ حضور ابراہیم اور حضرت زکر یا ان کی روحوں کو ہدیا کیا کر اور دعا بھی کر دیں۔ کہا کہ میں نے یہ بات سن لی یہ سن لی کہ بس بڑے ہیں بڑوں کی زیارت کے لیے گیا تھا بڑے حضرت کی زیارت کے لیے بس سن لیا اس کے بعد زمانہ طالبِ علمی میں تسبیحات کا ذوق تھا۔ لیکن ان کے بارے میں مشہور تھا کہ جس کی اولاد نہ ہو تی ہو وہ ان کے پاس جا ئے جن کی اولاد نہ ہوتی ہو وہ ان کے پاس جا ئیں اور ان سے دعا کر یں۔ لوگوں کا تعاقف کیا کر تے تھے پھر ان کی ملازمت سکول میں ہو گئی۔ میرے والد صاحب ان کے شاگر تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.