رزق دولت قسمت اور تقدیر اللہ سے یہ ایک دعا ہر روز مانگا کریں

اللہ کی شان دیکھئے ہر بات میں اللہ کی حکمت ہوتی ہے جس شخص کے ساتھ سفان بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تہمت لگائی گئی تو انہوں نے صحابہ سے کہا اللہ کے بندے میں تو مرد ہی نہیں ہوں میں تو عورت کے قابل ہی نہیں ہو تو نعوذ باللہ میں کیسے گناہ کروں گااللہ نے انتظام کر دیا کہ بی بی

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کسی طرف سے بھی الزام نہ لگ سکے یعنی وہ بھی اس قابل نہیں تھا اور برائت بھی اللہ نے کر دی اور بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان سے بھی وہی کلمہ نکلا جو بی بی ہاجرہ ام اسماعیل کو جب حضرت ابراہیم چھوڑ کر جارہے تھے تو انہوں نے پیچھے سے دوڑی اور جنت المعلیّٰ تک دوڑتی گئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام خاموش ہیں کہ کوئی جواب نہیں دے رہے کہ اللہ کا حکم ہے اللہ کا حکم دیا کہ جواب دو تو بیوی نے پوچھا کہ تم نے ہمیں اپنی ناراضگی کی وجہ سے چھوڑ کر جارہے ہو یا پھر اللہ کا حکم ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں میں اللہ کے حکم سے چھوڑ کر جارہا ہوں اور پڑھا حسبنا اللہ ونعم الوکیل آپ نے بھی یہی کلمہ پڑھا تھا جس کی وجہ سے اللہ نے وہ شان بخشی کہ آج زمز بھی اور صفا مرویٰ بھی قیامت تک ان کی نشانیاں ہیں جو ہمیشہ کے لئے جاری و ساری رہیں گی

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا انہوں نے بھی یہی کلمہ پڑھا تھا حسبنا اللہ ونعم الوکیل اور ج ن گ احد میں جب شکست ہوئی اور ابو سفیان نے جب نعرے مار مار کر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ڈرایا سب نے یہی پڑھا حسبنا اللہ ونعم الوکیل تو یہ ایک ایسا کلمہ ہے ایسا اسم الاعظم ہے کہ جتنی بڑی مصیبت ہو اگر آدمی یقین کامل کے ساتھ پڑھے تو ساری مصیبتیں ٹل جاتی ہیں اسی لئے علماء نے باقاعدہ اس کلمے کی فضیلت میں کتابیں لکھی ہیں القول الجمیل فی فضیلت حسبنا اللہ ونعم الوکیل اور اس میں انہوں نے مختلف طریقوں سے پڑھنے کا انداز بھی لکھا ہے لیکن بہر حال بہتر یہی ہے کہ آپ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے پڑھتے رہیں۔خلیفہ دوئم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں میں نے پڑھا ہے کہ آپ کبھی بدصورت اور برے نام والوں کو کام کا نہیں فرماتے تھے۔ایک دفعہ بوری اٹھوانے کے لیے راہ گیر کو آواز دی جب وہ قریب آیا تو پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ کہنے لگا میرا نام ظالم ہے۔فرمایا باپ کا؟ کہنے لگا سارق ہے۔حضرت نے اس سے بوری نہیں اٹھوائ اور فرمایا۔جاؤ تم ظلم کرو اور تمہارا باپ چوری کرے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا میرے مطالعہ سے گزرا۔امام شافعی علم قیافہ کے بہت ہی ماہر تھے

خود بہت خوبصورت تھے اس لیے بد صورت لوگوں سے آپکی جان جاتی تھی۔ایک سفر میں تھے کہ جنگل میں شام ہوگئی۔ایک دہقان کی جھونپڑی نظر آئی۔وہاں گئے دیکھا کسان بہت ہی بد صورت اور مکروہ شکل تھا۔آپ بہت پریشان ہوئے لیکن کیا کرتے مجبوری میں رات گزارنے کے لیے خاموشی اختیار کی۔کسان خلاف توقع بہت محبت سے پیش آیا۔اس نے آپکی بہت مہمان نوازی اور مدارت کی۔امام رات بھر اس تفکر میں رہے کہ اسکو تو بہت خبیث ہونا چاہیے تھا یہ ایسا متواضع اور محبت والا کیوں ہے۔جب صبح ہوئ تو کسان بڑے راستے تک الوداع کہنے کے لیے گیا۔الوداع کرنے سے پہلے کہنے لگا۔حضرت آپکی طرف ایک سو دس درہم بنتے ہیں۔آپ نے پوچھا وہ کیسے؟ کہنے لگا روٹی کے پچاس پانی کے دس چارپائی کے دس بستر کے دس مصلے کے دس اور ہاتھ پاؤں دابنے کے بیس یہ کل 110درہم بنتے ہیں۔امام نے فورا وہ رقم ادا کر دی اور فرمایا شکر ہے میرا علم تو تباہی سے بچ گیا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.