”سرسوں کےتیل میں یہ کیپسول ملا کر لگائیں“

یہ بات ٹھیک ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں بالوں سے محرومی کا امکان زیادہ ہوتا ہے تاہم خواتین میں بھی بال گرنا عام ہوتا ہے اور ان کے لیے بھی یہ امر مایوس کن ثابت ہوتا ہے۔ان میں پروٹین کی کمی یا وٹامن کی زیادتی سے لے کر متعدد چیزیں شامل ہوسکتی ہیں۔خون یا آئرن کی کمی بالوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ اینیما نامی اس مرض کا تعین تو بلڈ ٹیسٹ ہوسکتا ہے تاہم بالوں کو اس سے بچانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ کیونکہ اکثر لوگوں میں تشخیص ہی نہیں ہوپاتی۔ تاہم اگر خون کی کمی اور بالوں کے گرنے کا علم ہوجائے تو آئرن سپلیمنٹ اس مسئلے سے تحفظ دے سکتا ہے۔آج جو نسخہ بتائیں وہ کبھی آپ نے نہیں دیکھا تاہے یہ ایک بہت بہترین ریمڈی ہے آپ سرسوں کے تیل میں کیپسول ملا کر اپنے بالوں میں لگا لیں آپ کے بال اتنی تیزی سے لمبے موٹے سلکی اور شائنی ہونگے آپ خود اپنے بال دیکھ کر حیران ہوجائیں گے ۔ وہ خواتین وحضرات جن کے بال ٹوٹتے ہیں ان کے بال مضبوط نہیں ہیں یہ زبردست نسخہ استعمال کرنے سے ان کے بال جڑوں سے مضبوط ہوجائیں گے جن کے بال پتلے وہ بھی یہ استعمال کریں بہت ہی آسان نسخہ ہے۔اور یہ استعمال کرنے سے آپ کی بہت موٹی چٹیابنے گی ۔
اس نسخے کا بتانے کا طریقہ یہ ہے کہ آ پ ایک صاف پیالی لیں اور آدھا پاؤ کے قریب سرسوں کا تیل ڈالیں جوکہ بالوں کی بہترین نشوونما کرتا ہے بالوں کو شائنی اور لمبے بناتا ہے پھر آپ نے سنگوبیان کیپسول لینے ہیں یہ آئرن کی کمی کو پورے کرتے ہیں جو کہ میڈیکل سٹور سے باآسانی مل جائینگے پانچ روپے کا ایک کیپسول ہے ۔اس کے اندر کریمی مکسچر بھرا ہوتا ہے ۔ آپ نے اس میں دوکیپسول استعمال کرنے ہیں۔اگر آپ چاہیں تو اس تیل کو بنا کر ایک ہفتے تک استعمال کرسکتے ہیں۔ پھر چمچ کی مدد سے اچھی طرح مکس کرنا ہے پھر تیل کا رنگ تھوڑا سا تبدیل ہوجائیگا اس کو استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ نے مساج کرتے ہوئے یہ بالوں میں لگائیں بالوں کی جڑوں میں لگانا ہے اس کے استعمال سے سر کی جلد میں خون کی گرد تیز ہوگی جس سے بال کے برھوتری میں اضافہ ہوگا ۔ کم سے کم تین گھنٹے تک یہ تیل اپنے بالوں میں لگا رہنے دیں پھر کسی معیاری شیمپو سے صاف کرلیں اس ریمڈی کو ہفتے میں کم سے کم دو بار استعمال کرنا ہے ۔ اس ریمڈی کے استعمال سے آپ کے بال بہت لمبے گھنے اور موٹے ہوجائینگے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *