عرق گلاب سے جگر کا ہر مرض جڑ سے ختم ہوگا جگر کی کوئی بھی بیماری ہوتو فوراً یہ کرلیں

جگر کی خطرناک سے خطرناک بیماری جڑ سے ختم کرنیکا مجرب طبعی روحانی عمل انشاء اللہ رپورٹس بھی کلیئر ہونگی ۔آپ نے روحانی عمل سورۃ یونس کی آیت نمبر64 یہ آپ نے 41مرتبہ پڑھنی ہے ۔یہ پڑھنے کے بعد آپ نے آدھا کپ عرق گلاب لینا ہے ۔ایک گلاس سادہ پانی لینا ہے دونوں کو مکس کرنا ہے ۔ آپ نے آیت پڑھ اس مکس کیے ہوئے پانی پر اس گلاس کے پانی پر دم کرلینا ہے ۔آپ نے یہ پانی دن بھر میں تھوڑا تھوڑا پانی پینا ہے اور 41دن متواتر یہ عمل کرنا ہے ۔ انشاء اللہ آپ کو حیرت انگیز رزلٹ آئینگے اور اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء عطاء فرمائیں گے۔

یہاں جگر کو نقصان پہنچنے کی ایسی ہی خاموش علامات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے واقفیت ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔دل متلانا اور قے آنا جگر میں خرابی کی ابتدائی علامات ہوسکتی ہیں جو عام طور پر ڈپریشن، فوڈ پوائزننگ اور آدھے سر کے درد جیسے امراض کے ساتھ بھی سامنے آتی ہیں، تاہم جگر کے امراض میں ہر وقت دل متلاتا رہتا ہے جو جگر میں نقصان کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا جب میٹابولزم اور نظام ہاضمہ میں جگر کی خرابی کی وجہ سے تبدیلیاں آتی ہیں، اگر ہر وقت متلی، قے اور معدے میں خرابی کی شکایت ہو تو طبی مدد کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

جگر پر چربی چڑھنے کی کوئی جسمانی علامت نہیں ہوتی اور بظاہر خون کے ٹیسٹ یا جگر کے معائنے کے بغیر اس کی شناخت ممکن نہیں ہوتی، مگر جگر کے امراض کی شدت بڑھ رہی ہو تو تھکاوٹ اور کمزوری جیسی علامات ضرور سامنے آسکتی ہیں۔ اگر آپ کو ہر وقت تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس ہوتا ہے جبکہ ماضی میں کبھی ایسا نہ ہوا ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جاکر معائنہ کرانا چاہیے۔جب خوراک مناسب طریقے سے ہضم نہ ہو تو کھانے کی خواہش ختم ہونے لگتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ وزن میں انتہائی تیزی سے بہت زیادہ کمی ہوجائے۔ جگر میں بائل کی پروڈکشن کی کمی بھی اس کی وجہ ہوتی ہے جو کہ چربی کو ہضم کرنے میں مدد دینے والا سیال ہوتا ہے۔ اگر طویل عرصے تک کھانے کی اشتہا نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

ایک جرمن تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بلڈ پریشر کے شکار افراد میں جگر کے امراض کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اپنے بلڈ پریشر کو چیک کرنا اور دل کی صحت کو بہتر بنانا جگر کے امراض کی صورت میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، دوسری صورت میں موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.