عورتوں کی وہ قسم جو پردہ تو کرتی ہیں مگر انتہائی خطرناک ہوتی ہیں ، مرد بچ کر رہیں

عورت محبت کے بغیر آدھی ہوتی ہے جبکہ عزت کے بغیر عورت عورت ہی نہیں رہتی۔ محبت تو جذبوں کی امانت ہے۔ فقط بستر کی سلوٹ زدہ چادر پر گزارے جانے والے چند بد بو دار لمحے محبت نہیں کہلاتے۔عورت جب رو رہی ہو تو بہت حسین ہو جاتی ہے اس کے آنس۔و شبنم کے قطروں کے مانند ہوتے ہیں ۔ جو مرد کے جذبات کے پھو لوں پر ٹپک۔تے ہیںجن سے اسے ایسی راحت ملتی ہے۔ جو اور کسی وقت نصیب نہیں ہو سکتی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ عورتوں کی نفسیات کیا ہےجب ان سے پیار کیا جائے تو گھبرا جاتی ہیں اور جب ذرا بے اعتنا ئی برتی جائے تو برہم ہو جاتی ہیں۔لڑکی جب ٹرپتی ہے تو بہت روتی ہے تم سے کلی بھی کر نا چاہتی ہے مگر نہیں کرتی کیو نکہ وہ تمہیں کھو نا نہیں چاہتی اس لیے اگر تمہاری زندگی میں کوئی خاص ہے۔

تو ہر رات سونے سے پہلے یہ سوچ لیا کرو کہ وہ سکون سے سو رہی ہے یا پھر تکلیف سے رو رہی ہے۔ تو ہر رات سونے سے پہلے یہ سوچ لیا کرو کہ وہ سکون سے سو رہی ہے یا پھر تکلیف سے رو رہی ہے۔ مرد کے لیے عورت بڑی عجیب چیز ہے مل جائےتو نظر نہیں آتی نہ ملے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ اگر یہ معاشرہ ک۔و ٹھوں پر جانے والے اور ش۔ہ۔وا نیت سے ب۔رے لوگ پیدا کر سکتا ہے۔تو اس معاشرے کو رن۔ڈی پیدا کرنے پر حیرانگی کیوں ہوتی ہے۔ جب تک خریدار موجود ہوں گے بازار میں م۔ال آتا رہے گا۔ پردہ کرنے والی عورتوں کی کئی قسمیں ہیں ایک قسم تو ان کی ہے جو صرف اپنے رشتے داروں سے پردہ کرتی ہیں نا محرم مردوں سے انہیں کوئی حجاب محسوس نہیں ہوتا، ایک قسم ان کی بھی ہے جن کا پردہ اپنی گلی کے مردوں تک محدود ہےلیکن سارے شہر میں پردہ بغ۔ل یا پردہ بدوش پھ۔رتی رہیں گی لیکن گلی میں داخل ہوتے ہی پ۔ردہ پ۔وش ہو جائیں گی لیکن خط۔ر ناک قسم ان عورتوں کی ہےجو پردہ کرتی ہیں۔

لیکن در پ۔ردہ نہیں کرتیں۔ رات کا آخری پہر تھا ۔میں نے مجبوراً اسے بھو لنے کے ارادے کے ساتھ وضو کیا دو رکعت نماز ادا کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھے ہی تھےکہ زباں سے نکلا اللہ ہمیں ملا دے۔سعادت حسن منٹو سے کسی نے پوچھا : کیا حال ہے آپ کے ملک کا؟ کہا: بالکل ویسا ہی جیسا ج۔ی۔ل میں ہونے والی جمعہ کی نماز کا ہوتا ہے اذان ف۔راڈیا دیتا ہے ،امامت ق ا ت ل کراتا ہے۔ اور نمازی سب کے سب چ۔ور ہوتے ہیں۔ میرے الفاظ گ۔ندے نہیں تمہاری سوچ گ۔ندی ہے۔میرے الفاظ صرف نن۔گ۔ے ہیں۔ تھوڑی سی بے صبری بڑے بڑے مقاصد کو تب۔اہ کر دیتی ہیں۔ کوئی تم کو ایک مرتبہ دھو کا دے تو یہ اس کے لیے شرم کی بات ہےاور تم ایک انسان سے دو مرتبہ دھو کا کھا ؤ یہ تمہارے لیے شرم کی بات ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.