عورت کی دو حرکتیں مرد کو بہت پسند ہو تی ہیں۔

عورت ناز سے گوندھی گئی ہے اور ناز کی حقدار ہے اماں عائشہ صدیقہ رضی جب بھی روٹھتی تھیں

کہ سرورِ کائنات منا ئیں اور منا یا جا تا تھا یہ عورت کا حق اور مرد کا فرض ہے محبت کے قرض ایسے ہی لوٹائے جا تے ہیں محبت میں شدت معنی نہیں رکھتی محبت میں عزت معنی رکھتی ہے۔ ہر میاں بیوی پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب کچھ لوگ ان کے رشتے کو کمزور کر نے کی کوشش کر تے ہیں جو اس وقت مشکل وقت میں نکل گیا وہ سکھی اور جو لوگوں کی باتوں میں آگیا اس کا مقدر نہ ختم ہونے والا دکھ ہے۔ جب دل کسی شخص پر ٹھہر جا ئے نہ تو دماغ کسی اور کو قبول کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ نیک اور فر ما نبردار بیوی گھر کی رونق ہو تی ہے۔

وہ بیوی بہت خوش نصیب ہے جس کی غیر موجودگی میں اس کا شوہر بے چین رہے۔ جب کوئی پسند آ جا ئے تو دوسروں سے نہیں پو چھتے کہ وہ کیسا ہے مرد بھول جا تا ہے معاف نہیں کر تا عورت معاف کر دیتی ہے بھولتی نہیں۔ عورت کی دو حرکتیں جو مرد کو بہت پسند ہو تی ہے۔ نمبر ایک مرد کو غصے میں دیکھ کر عورت کا خاموش ہو جا نا نمبر دو کوئی بھی نیا کام کرنے سے پہلے مرد سے مشورہ لینا لوگ چھوڑ کر نہیں جا تے دھتکار کر جا تے ہیں اہم یہ نہیں کہ وہ اب آپ کی کتنی بار تذلیل کر یں گے اہم یہ ہے کہ اب آپ اور کتنا ذلیل ہو نا چاہتے ہیں۔

بارگاہ رب العزت میں دعا گو ہوں اللہ پاک آپ کو اپنی رحمتوں اور بر کتوں سے ما لا مال کرے رزق میں خیر و بر کت عطا فر ما ئے اور ہمیشہ اپنی حفظ و ا مان میں رکے۔ آ مین۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک عرصہٴ دراز سے عورت مظلوم چلی آرہی تھی۔ یونان میں، مصر میں، عراق میں، ہند میں، چین میں، غرض ہرقوم میں ہر خطہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی، جہاں عورتوں پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹے ہوں۔ لوگ اسے اپنے عیش وعشرت کی غرض سے خریدوفروخت کرتے ان کے ساتھ حیوانوں سے بھی بُرا سلوک کیاجاتاتھا؛ حتی کہ اہلِ عرب عورت کے وجود کو موجبِ عار سمجھتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ ہندوستان میں شوہر کی چتا پر اس کی بیوہ کو جلایا جاتا تھا ۔

واہیانہ مذاہب عورت کو گناہ کا سرچشمہ اور معصیت کا دروازہ اور پاپ کا مجسم سمجھتے تھے۔ اس سے تعلق رکھناروحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ دنیا کے زیادہ تر تہذیبوں میں اس کی سماجی حیثیت نہیں تھی۔ اسے حقیر وذلیل نگاہوں سے دیکھاجاتا تھا۔ اس کے معاشی وسیاسی حقوق نہیں تھے، وہ آزادانہ طریقے سے کوئی لین دین نہیں کرسکتی تھی۔ وہ باپ کی پھر شوہر کی اور اس کے بعد اولادِ نرینہ کی تابع اور محکوم تھی۔ اس کی کوئی اپنی مرضی نہیں تھی اور نہ ہی اسے کسی پر کوئی اقتدار حاصل تھا؛ یہاں تک کہ اسے فریاد کرنے کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.