لاعلاج اور ما یو س مریض ایک بار ضر ور آز ما ئیں۔ ہائی بلڈ پریشرتین دن میں ٹھیک۔

بلڈ پریشر ، خواتین کا پرا نا لیکو ریا ، موٹا پا ، پیٹ کا بڑ ھنا، گیس، تبخیر کے لیے بہت لا جواب چیز

ہے معدے کا نظام یا ایسے لوگ جن کو شوگر نے اتنا ستا یا کہ جسم اب کسی قا بل نہیں رہا یہ ٹوٹکہ شوگر کا حیرت انگیز علاج ہے بواسیر، کولیسٹرول ٹینشن ، پرانی قبض اور بواسیر میں مبتلا افراد کے لیے یہ ٹوٹکہ حیرت انگیز شفاء ہے ایک چھوٹی پیالی میں ایک بڑا چمچ زیتوں کا تیل دو چمچم اسپغول کا چھلکا اور ایک چٹکی کلونجی ڈالیں اچھی طرح مکس کر لیں اور چمچ سے پانی یا دودھ کے ہمراہ کھا لیں یہ ایک وقت کی خوراک ہے اسی طرح دن میں تین چار باریہ ٹوٹکہ بنا کر استعمال کر یں۔

چند دن میں ہی حیرت انگیز رزلٹ ملیں گے۔ ہائی بلڈ پریشر تین دن میں ٹھیک: شیخ الو ظائف کا عطا کردہ آزمودہ ٹوٹکہ: رات کو جو کا دلیہ حسبِ ضرورت پکا ئیں۔ اس دلیہ کو فریض میں رکھنے کی ضرورت نہیں با ہر کھلا بھی رکھ سکتے ہیں صبح اس دلیے کے اوپر ایک بڑا چمچ السی کے بیج کا پاؤڈر چھڑک دیں ( السی کے بیج پیس کر پاؤڈر بنا لیں) یہ دلیہ نا شتے میں کھا لیں اور اس کے بعد دو گھنٹے تک کچھ نہ کھا ئیں۔ اس ٹوٹکے سے صرف تین دن میں ہائی بلڈ پریشر کے مریض ٹھیک ہو چکے ہیں۔

چند دن چند ہفتے افاقہ ہونے تک اس ٹوٹکے کو جا ری رکھیں انشاء اللہ بلڈ پریشر کی ادویات سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جا ئے گی اس کے علاوہ یہ ٹوٹکہ دل کے امراض کا بھی بہترین علا ج ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پیمانوں سے پتا چلتا ہے کہ ہماری خون کی رگیں کتنی لچکدار ہوتی ہیں۔ان کے بقول اگر کسی انسان کے خون کا دباﺅ 139/89 سے زیادہ ہے تو یہ ہائی بلڈ پریشر تصور کیا جاتا ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ بلڈ پریشر کی سطح کو صحت بخش غذا کے ذریعے کم کرنا ممکن ہے جیسے دالیں، اجناس، کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات، پھل، سبزیاں اور پروٹین وغیرہ۔مگر اس کے ساتھ ساتھ چند ایسے گھریلو ٹوٹکے یا عادات بھی ایسی ہیں جو اس خاموش قاتل مرض پر قابو پانے میں مددگار ہیں۔

ایسی ہی عادات کے بارے میں جانیں جو ہائی بلڈ پریشر سے تحفظ میں مدد دے سکتی ہیں۔صحت مند زندگی کے لیے روزانہ 30 سے 60 منٹ تک ورزش ضروری ہے، جسمانی سرگرمی نہ صرف بلڈ پریشر میں کمی لاتی ہے بلکہ اسے معمول بنانا مزاج، جسمانی مضبوطی اور توازن کے لیے بھی مفید ہے، اس سے ذیابیطس اور امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ اگر آپ زندگی کا بیشتر حصہ ورزش سے دور رہ کر گزار چکے ہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرکے ورزش کا محفوظ معمول طے کریں اور بتدریج اس کو بہتر بنائیں۔ ہر بیماری ہی خطر ناک ہے تو ہمیں ان بیماریوں کے لیے سنجیدہ ہو نا چاہیے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *