”لوگ اس وظیفے کے پیچھے ہی پڑ گئے“

رسول اکرم ﷺ نے چھٹی یہ دعا فرمائی لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین

جو بندہ اتنا پڑھ لے لا الہ الاانت سبحانک انی کنت من الظالمین یہ وہ دعا ہے رات کا اندھیرا پانی کا اندھیرا مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا اللہ نے وہاں بھی یونس کی زبان سے نکلے کلمات کو سن کر ان کو بچالیا تو دنیا کے کسی اندھیرے میں بیمارے کے اندھیرے میں غم کے اندھیرے میں کوئی چلا جائے یہ پڑھ لے حدیث کے آخری الفاظ کیا ہیں دنیا کا کوئی انسان کبھی بھی یہ پڑھ لے اللہ اسے فورا قبول فرما لیتے ہیں یونس ؑ جب مصیبت میں پھنس گئے تو انہوں نے دعا کیا کی لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین اے اللہ تو پاک ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں میں اپنی جان پر ظلم کر بیٹھا ہوں ۔لا الہ الا اللہ: بہترین صدقہ، قبر میں باعث نجات، وزنِ میں سب پر بھاری، روزِ قیامت شفاعت کرنے اور لینے نیز جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔

لا الہ الا اللہ : وضو، اذان، اذان کے بعد ، نماز کے دوران اور بعد، مناسک حج و عمرہ، سفر، خطبہ ، کفارۂ مجلس، رات کے وقت بیداری اور پریشانی کے وقت کی جانیوالی دعاؤں کا حصہ ہے، جس دعا میں یہ شامل ہو اس کی قبولیت کے مواقع مزید بڑھ جاتے ہیں، آخر میں انہوں نے کہا کہ: اللہ کے سوا ہر کسی سے الوہیت کی نفی کر کے صرف اللہ کیلیے الوہیت ثابت کرنا لا الہ الا اللہ کا مطلب ہے۔مخلوق کیلیے شرف کا مقام ہے کہ وہ اللہ تعالی کی اطاعت اور اسی کی بندگی پر کار بند رہے، احکامات الہیہ اور تخلیق کی یہی حکمت ہے، اسی بندگی کی بنا پر دنیا اور آخرت میں کامیابی ملے گی، فرمانِ باری تعالی ہے:اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ یقیناً بہت عظیم کامیابی پا گیا۔خوشی، سرور، لذت اور خوشگوار لمحات صرف اللہ تعالی کی معرفت، اسے ایک ماننے اور اس پر ایمان لانے میں ہے، افضل اور محبوب ترین کلام وہ ہے۔

جس میں اس کی حمد و ثنا ہو، اور اللہ تعالی کی بہترین ثنا کلمہ توحید: لا الہ الا اللہ ہے۔اسی کلمے کی بنیاد پر آسمان و زمین قائم ہیں، اسی کے لیے موجودات کو وجود دیا گیا، اللہ تعالی نے اپنی کتابیں بھی اسی کیلیے نازل کیں اور رسولوں کو مبعوث فرمایا، فرمانِ باری تعالی ہے:اور آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ ” میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لہذا صرف میری ہی عبادت کرو ۔لا الہ الا اللہ کے ذریعے رسولوں نے اپنی اقوام کو ڈرایا، فرمانِ باری تعالی ہے:متنبہ کر دو کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں لہذا مجھ ہی سے ڈرو اس کلمے کے ذریعے اللہ تعالی نے اپنے بارے میں گواہی دی اور اس پر اپنی افضل ترین مخلوقات کو گواہ بنایا، فرمانِ باری تعالی ہے:اللہ نے خود بھی اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اور فرشتوں نے بھی اور اہل علم نے بھی راستی اور انصاف کے ساتھ یہی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہی غالب ہے، حکمت والا ہے ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:یہ جلیل القدر، سب سے عظیم، مبنی بر عدل اور سچی گواہی ہے ۔

اس گواہی کے شاہد اور مشہود دونوں ہی جلیل القدر ہیں تمام شریعتوں کی بنیاد یہی کلمہ ہے، اور دین سارے کا سارا اسی لا الہ الا اللہ کے حقوق پر مبنی ہے، ثواب اسی پر موقوف ہے، اور عذاب اس کلمے کو ترک کرنے یا اس کے حقوق میں کمی کرنے پر ہو گا۔ کلمہ توحید عالی مرتبت اور ڈھیروں فضائل والا کلمہ ہے، یہ علی الاطلاق اسلام کی چوٹی ہے، اسلام کا سب سے پہلا رکن اور بنیاد ہے، یہی کلمہ اسلام کے تمام ارکان کی بنیاد ہے، یہ کلمہ اللہ تعالی پر ایمان لانے کا رکن اور ایمان باللہ کا سب سے بڑا حصہ ہے؛ اسی لیے کلمے کے بغیر ایمان صحیح نہیں ہو سکتا اور ایمان میں استحکام بھی اسی سے آتا ہے، کلمہ ہی ملت کی بنیاد اور قبلے کے تعین کی وجہ ہے، یہ تمام بندوں پر اللہ تعالی کا حق ہے، کلمۂ توحید اسلام اور جنت کی چابی ہے، اسی کی بنیاد پر لوگ بد بخت اور نیک بخت ہیں، مقبول اور دھتکارے ہوئے ہیں، یہ کلمہ کفر اور اسلام میں فرق کرتا ہے ۔قوتِ گویائی رکھنے والے لا الہ الا اللہ سے اچھا بول نہیں بول سکتے، اور نہ ہی عمل کرنے والے اس کے تقاضوں سے اچھا کوئی عمل کر سکتے ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے:اللہ تعالی کے ہاں چار الفاظ محبوب ترین ہیں: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللهُ أَكْبَرُ یہی کلمۂ تقوی ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمی

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.