محرم الحرام اور چند ضروری باتیں

محرم الحرام کا مہینہ اسلامی ہجری قمری سال کا پہلا مہینہ ہے۔

اسلام سے پہلے زمانۂ جاہلیت کے لوگ بھی سال کے جن چار مہینوں کو حرمت والا مہینہ کہتے اور مانتے تھے، اُن میں سے ایک یہی محرم کا مہینہ ہے ۔ عرب کے لوگ آپس میں خوب لڑتے بھڑتے تھے ، ڈاکے مارنا اور خونریزی کرنا اُن کا پسندیدہ مشغلہ تھا لیکن محرم کے مہینے میں پورے عرب میں امن و امان مثالی ہوتا تھا اور حرمت والا مہینہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس میں بلاخوف و خطر سفر کرتے تھے ۔اسلام کی نظر میں بھی محرم الحرام بڑی فضیلت والا مہینہ ہے ۔ واقعہ کربلا کے پیش آنے سے بہت پہلے رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فضائل بیان فرمائے تھے ۔ ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے:محرم الحرام اگرچہ پورا ہی حرمت و عظمت کا مہینہ ہے مگر اس کی دسویں تاریخ یعنی یومِ عاشورا ء خصوصی برکات و سعادات کا دن ہے ، اس دن کی عظمت و اہمیت کے پیش نظر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کی ترغیب فرمائی ، صومِ عاشوراء کے سلسلے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحا میں متعدد روایات منقول ہیں ۔حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں ، ان سے وجہ دریافت کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ : اس روز اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا تھا ، اس لئے ہم تعظیماً اس دن کا روزہ رکھتے ہیں ، حضورﷺ نے فرمایا :”ہم تمہاری بہ نسبت موسیٰ کے زیادہ قریب ہیں ، اور آپﷺنے اس دن کے روزے کا حکم فرمایا ۔”

صحیح مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دسویں محرم کے روزے کے بارے میں عرض کیا تھا کہ یوم ِ عاشوراء تو ایسا دن ہے کہ یہود و نصاریٰ جس کی تعظیم کرتے ہیں تو کیا ہمارے اس دن روزہ رکھنے سے اُن کے ساتھ مشابہت تو نہیں ہو جائے گی ؟اس پر پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اگر میں اگلے سال تک تمہارے درمیان رہا تو میں نویں تاریخ کا روزہ بھی رکھوں گا “۔اس حدیث کے پیش نظر دسویں تاریخ کے ساتھ نویں تاریخ یا گیارہویں تاریخ کا روزہ ملا لینا افضل ہے لیکن اگر صرف دسویں محرم کا روزہ رکھا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔یومِ عاشوراء کے سلسلے میں روزے کے علاوہ دوسری جس چیز کا ثبوت روایات میں ملتا ہے ، وہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺنے اس روز اہل و عیال پرکھانے پینے اور خرچے میں فراخی اور کشادگی کرنے کی ترغیب فرمائی ہے۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : رسول اللہﷺنے فرمایا : جو شخص عاشورا کے دن اپنے اہل و عیال کے خرچ میں فراخی کرے گا ، اللہ تعالیٰ پورے سال اس کے لئے کشادگی فرمائیں گے ۔ بہت سے محدثین فرماتے ہیں کہ ہم نے اس بات کا خود تجربہ کیا ہے اور اس کو یوں ہی پایا ہے ۔

روزہ رکھنے اور اہلِ و عیال پر وسعت یعنی عام معمول سے زیادہ خرچ کرنے کے علاوہ ہمارے معاشرے میں دیگر جو کام کیے جاتے ہیں مثلاً کچھ لوگ کالے رنگ کے کپڑے سوگ کی علامت کے طور پر پہنتے ہیں ۔ کچھ لوگ پانی کی سبیلیں لگاتے ہیں ۔ کچھ لوگ اس دن سرمہ لگانے کو باعث ِ فضیلت سمجھتے ہیں اور کچھ کھانے پینے کے شوقین لوگوں نے تو قسما قسم کے مزیدار کھانے بنانے کو بھی عبادت سمجھ رکھا ہے اور وہ یوں خیال کرتے ہیں کہ اس طرح وہ کربلا کے عظیم شہداء کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں حالانکہ شہداء کربلا نے تو اس دن بھوکے پیاسے ، جامِ شہادت نوش فرمایا تھا ۔ بہر حال ان سب باتوں اور عادتو ں کا اسلام سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے اور قرآن و حدیث ‘ تعلیمات صحابہ کرام و اہل بیت عظام میں ان کا کوئی ذکر نہیں ملتا ۔چونکہ یکم محرم الحرام ۲۴ھ کو سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اور دس محرم الحرام ۶۱ھ کو سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا ، اسی مناسبت سے یہ ذکر کر دینا ضروری ہے حضرات صحابہ کرام اور حضرات ِ اہل بیت دونوں ہی سے محبت و عقیدت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ اگر صحابہ کرامؓ ہمارے سروں کے تاج ہیں تو حضرات ِ اہل بیت عظام بھی ہماری آنکھوں کا نور اور دلوں کا سرور ہیں ۔ ان حضرات کے باہمی تعلقات بھی انتہائی محبت و خلوص پر مبنی ، بے مثال اور خوشگوار تھے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.