مرچوں سے جوڑوں کا علاج خاص کیمیکل پر کامیاب تحقیق

انسانی جسم میں ہڈیوں کو جوڑنے اور نقل و حرکت میں جوڑوں کا بڑا عمل دخل ہے جن میں کندھے، کولہے، کوہنیاں اور گھٹنے شامل ہیں، ان میں درد کی شکایت ہو تو روزمرہ کی زندگی کافی مشکل ہو جاتی ہے ۔جوڑوں کا درد کب،کیوں ، کیسے اور کن افراد پر حملہ آور ہوتا ہے۔طبی اصطلاح میں جوڑوں کے درد کو دو درجوں میں رکھا جاتا ہے۔

ایک چھوٹے جوڑوں کادرد جسے’ نقرس‘ کہا جاتا ہے اور دوسرے بڑے جوڑوںکا دردجسے گنٹھیاکہا جاتا ہے۔جوڑوں کے درد کو عام افراد گنٹھیا کے نام سے ہی موسوم کرتے ہیں۔اصول ِ طب کے حوالے سے تو مجھے نقرص اور گنٹھیا کو الگ الگ بیان کرنا چاہیے تھا مگر عام قاری کی سہولت اور آسانی کے لیے ان دونوں کو یکجا بیان کیا جارہا ہے۔یہ ایک موذی اور تکلیف دہ مرض ہے جس میں جوڑوں کی جھلیاں سخت ہو کر ہڈیوں کی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں۔جوڑوںپر ورم آ جاتا ہے۔مرض کی شدت میں جوڑ حرکت کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور ہڈیاں ٹیڑھی ہو جاتی ہیں۔ جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کیلئے ایک خوشخبری ہے جو چوبیس گھنٹوں میں جوڑوں کے دائمی درد سے نجات دلا سکتی ہے ۔

رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں نے یہ دوا ایک ایسے کیمیکل سے تیار کی ہے جو سرخ مرچوں سے ایک ہزار گناہ تیز ہے اس کیمیکل کا نام ریزینی فراٹوکسن ہے ۔رپورٹ کے مطابق یہ دوا گھٹنوں اور دیگر جوڑوں میں موجود عصبی خلیوں کے ایسے سروں کو جلا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ جو جوڑوں سے درد کے سگنلز دماغ تک بھیج رہے ہوتے ہیں برطانیہ میں تیس مریضوں پر اس دوا کے تجربا ت کیے گئے ہیں جن کے حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں ان مریضوں میں سے اکثر کو ایک ہی خوراک دی گئی ۔ اگلے چوبیس گھنٹوں میں انکے درد کی شدت نہ ہونے کے برابر رہ گئی چند ایسے تھے جنہیں شفاء یاب ہونے میں تین ماہ تک دوا کھانی پڑی ۔

یونیورسٹی آف لیڈز کے پروفیسر فلپ کانن کا کہنا تھا کہ اس وقت مارکیٹ میں موجود جوڑوں کے درد سے نجات کی جتنی ادویات موجود ہے ان کے انتہائی سنگین مضر اثرات بھی ہیں جو معدے او ردیگر اندرونی اعضاء کو شدید متاثر کرتی ہیں انکے برعکس اس نئی دو ا کے مضر اثرات بہت ہی کم ہونگے اس دوا کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ براہ راست درد میں مبتلا جوڑ میں موجود عصبی خلیوں کے سروں کو ٹارگٹ کرتی اس کی مزید رپورٹ ملتے ہی جلد آگاہ کیا جائیگا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.