نمازِ تہجد کا طریقہ نمازِ تہجد کی فضیلت نیت، وقت، اہمیت

آج ہم نمازِ تہجد کا طریقہ اس کی فضیلت اس کا وقت اور اس کی رکعتیں اس کو کیسے پڑھتے ہیں اور اس کو پڑھنے کے فوائد کیا ہیں یاد رکھیں حدیث ِ پاک میں آتا ہے نمازی تہجد نفلی نماز وں کے بعد اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز ہے اس کی کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ باراں رکعت سنت ہیںیہ نماز ابتدائی اسلام میں ہجرت سے پہلے فرض ہوئی تھی پھر کئی سال کے بعد نفلی ہو گئی آتا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ نے فر ما یا

جب سورۃ مزمل کا اول حصہ نازل ہوا تو آقا کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے قیام کیا یہاں تک ان کے قدم مبارک جو تھےان کے اندر ورم آگیا اور اللہ کریم اس کے خاتمہ کو باراں مہینے تک روک لیا تہجد نماز کی بہت ہی زیادہ فضیلت ہے اس کی فضیلت کا جتنا بھی ذ کر کیا جائے وہ بہت ہی کم ہے ۔ اس کی بہت ہی زیادہ فضیلت ہے ۔ ا س تہجد نماز کی جتنی بھی فضیلتیں بیان کی جائیں اتنی ہی کم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ نماز بہت ہی خاص ہے کیو نکہ انسان بہت ہی زیادہ نیند کی حالت میں ہوتا ہے اور جب وہ اپنی نیند خراب کر کر ا س کو ادا کر تاہے ۔تو اللہ کی نظر میں بہت ہی زیادہ محبوب بن جاتا ہے اور تہجد کا ہی وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ پاک دعائیں بہت ہی جلدی سن لیتا ہے۔ اللہ پاک فر ما تا ہے خود فر ما تا ہے اپنے بندوں سے کہ

ہے کوئی مغفرت حاصل کرنے والا ہےکوئی اپنی مصیبتوں کو حل کروانے والا ہے کوئی اپنی خواہشوں کو پورا کروانے والا تو جو شخص جو مسلمان اس وقت میں جاگ رہا ہوتا ہے وہ اس نماز کو ادا کرتا ہے اور اس نماز کو ادا کرنے کے بعد جو بھی دعا مانگتا ہے وہ اللہ پاک ضرور قبول فر ما تے ہیں کیونکہ اللہ پاک کی نظروں میں یہ انسان بہت ہی محبو ب بن جاتا ہےکیونکہ وہ فرض نمازوں کے علاوہ بھی ایک ایسی نماز پڑ ھ رہا ہے جس کو پڑ ھنا بہت ہی مشکل کام ہے اپنی نیند کو خراب کر نا بہت ہی مشکل کا م ہے جیسا کہ اللہ پاک فر ما تے ہیں کہ جو میری رضا کے لیے اپنی زندگی گزارے گا میں اس کی تمام قسم کی مشکلات حل کر دوں گا اور اس کے تمام قسم کے مسائل حل کر دوں گا اور اس کی زندگی میں خوشحالی ہی خوشحالی لے اؤں گا۔

تو ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کو لے کر ہر کام کر یں تا کہ اللہ ہم سے راضی ہو کر ہمیں وہ سب کچھ عطا کر دیں کہ جس کے ہم طلب گار ہیں۔ اللہ پاک ہمیں اس کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فر مائیں آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.