کا خاص خیال رکھنا چاہیے، گرم تاثیر اور قوت مدافعت بڑھانے والی غذاؤں کا استعمال بڑھا دیں اور سٹریس پھلوں سمیت خشک میوہ جات کا بھی استعمال لازمی کرنا چاہیے۔ماہرین کے مطابق ان بیماریوں سے بچاؤ کے لیےسب سے آسا ن طریقہ یہی ہے کہ ان کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں اور موسمی وائرسز سے بچنے کے لیے ناک، منہ، حلق، لباس اور اپنی صفائی کا خیال رکھا جائے۔موسم سرما کے دوران اگر روٹین میں گرم مشروبات کا ضافہ کر لیا جائے تو یہ بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، لہٰذا مندرجہ ذیل مختلف طریقوں سے بننے والے قہوے تحریر ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ ادرک کی چائے موسم سرما میں سخت سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ادرک کی چائے کو بہترین آپشن قرار دیا جاتا ہے، ادرک وٹامن سی، میگنیشیئم اور دیگر معدنیات سے بھرپور ہونے کے باعث صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔ ادرک کی چائے بنانے کے لے ایک انچ کا ٹکرا 4 کپ چائے کے لیے استعمال کریں، 4 کپ پانی میں ادرک ابالیں اور چولہے سے اتار لیں، اب اس میں کالی مرچ، شہد اور لیموں شامل کر کے استعمال کریں۔ شہد اور تخم بالنگا نزلہ، زکام اور کھانسی سے بچنے کے لیے شہد اور تخم بالنگا کا استعمال بہترین ہے، ایک گلاس پانی میں ایک چائے کا چمچ تخم بالنگا بھگو دیں اور اس میں ایک چائے کا چمچ شہد شامل کرکے ابال لیں اور دن میں ایک بار استعما کریں۔ گرم مسالے کا قہوہ سردی بھگانے، گلے کے درد میں آرام ، بلغم کے خاتمے اور جسم کے درد میں آرام کے لیے گرم مسالے کا قہوہ نہایت موزوں ہے۔ گرم مسالے کا قہوہ بنانے کے لیے لونگ پانچ عدد، دارچینی دو ٹکڑے، دیسی اجوائن دو گرام ایک گلاس پانی میں ابال کر چھان لیں، اب اسے نیم گرم ہونے پر اس میں شہد شامل کر لیں، چاہے تو لیموں کے چند قطرے بھی شامل کر لیں، اس قہوے کو دن میں دو بار نیم گرم استعمال کریں ۔ سبز چائے سبز چائے کو زیادہ تر وزن کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن سبز چائے کے اِس کے علاوہ بھی بہت سے فوائد ہیں، سبز چائے میں اینٹی آکسیڈینٹ کی خصوصیت موجود ہوتی ہے اور سبز چائے کو صحت مند مشروب بھی کہا جاتا ہے۔اِس میں موسمی بیماریوں سے لڑنےکی خصوصیت بھی ہوتی ہے، دِن میں اگر سبز چائے کا ایک کپ بھی پی لیا جائے تو اِس سے آپ کو سردی بھی کم لگے گی، اِسی لیے ٹھنڈے علاقوں میں سبز چائے کا بہت زیادہ استعمال کیاجاتا ہے۔

آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ نظر کا لگ جانا حق ہے ۔ اور آپ ﷺ نے گھورنے سے منع فرمایا۔اسی طرح حافظ ابن کثیر سورۃ یوسف کی آیت نمبر 67اور 68میں لکھتے ہیں کہ شہر میں اس کے مختلف دروازوں سے حاضر ہونا ۔ابن کثیرنے مختلف صحابہ کرام ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے ایسا اس لیے کیا کہ انکے بیٹوں کو نظر بد نہ لگے ۔ صحیح بخاری جلد 7میں اُم المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نظر ختم کے حوالے سے آپؐ نے مااوازطین پڑھنے کی تاکید کی ۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ نظر بد حقیقت ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عبا س ؓ روایت کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر کو کاٹ سکتی ہے تو وہ نظر ہے ۔

انسانی تاریخ ایسے ہزاروں واقعات ملتے ہیں جن میں انسانی آنکھ کی تخریبی یا منفی اثرات کا ذکر ملتا ہے ۔ یہ واقعات کچھ داستانوں اورکچھ حقائق پر مبنی ہے ۔ انسانی آنکھ سے خارج ہونیوالی منفی قوت میں یہ اثر ہے کہ وہ کسی کی زندگی میں بہت مشکلات لانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ انسانی آنکھ جب منفی قوت خارج ہوتی ہے تواسے نظر بد کہا جاتا ہے ۔ نظربد لگانے والا دوسروں کے متعلق بُری سوچ لگتا ہے ۔ ایسا شخص دوسروں کو روحانی اور جسمانی نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے ۔ نظر بد کی وجہ ایک خوشحال وکامیاب انسان کی زندگی بدقسمتی ،صحت کے مسائل اور شدید بیماری کا شکار ہوجاتی ہے ۔ کامیابی سے چلنے والا کاروبار بند کرنے کی نوبت ہوجاتی ہے ۔ ایک امیر آدمی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔

آئیے آپ کو وہ عمل بتاتے ہیں کہ جس کے کرنے سے آپ نظر بد کا شکار ہیں یا نہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کو کوئی جسمانی بیماری ہے اور آپ اسے نظر بد سمجھتے ہیں اور آپ اس کا علاج جسمانی بیماری کے لحاظ سے کررہے ہیں۔اس عمل کیلئے آپ کو ایک عدد ایک انڈہ چاہیے ہوگا اور ساتھ سبز دھنیا خشک کیا ہوا اور آپ نے یہ انڈہ لے کر سات جگہ یہ کلمات لکھنے ہیں ۔وصلی اللہ علی سیدنا محمد وعلی الہ وصحبہ وسلم تسلیما مدعا کرعا۔اوراس انڈے کو اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس کے نیچے دھنیے کی دھونی جلانی ہے ۔ اس دوران آپ نے سورۃ اخلاص پڑھتے رہنا ہے ۔ اور جب آپ کو محسوس ہوکہ انڈہ کھڑا ہونے لگا تو اس انڈے کو توڑ دیں اگر آپ اس میں سرخ نشان دیکھیں تو جان لیں کہ آپ کو نظر بد ہے اور اگر انڈے کے اندر سرخ نقطے یا نشان نہ ہوں تو اس کا مطلب آپ کو نظر بد نہیں بلکہ جسمانی بیماری ہے ۔ اگر انڈے میں سرخ نشان پایا جائے ۔ تو اس میں تھوڑی سی زردی نکال کر مالش کرلیں اس کے بعد نظر بد کا اثر جاتا رہے گا۔ سب سے زیادہ بہتر اور سورۃ الناس اور سورۃ فلق کا اہتمام اور دم کیا جائے اس کے ساتھ دعائیں پڑھنیں کا بھی اہتمام کیا جائے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *