کمر کس اور بھنے چنوں کا خاص نسخہ بس ایک بار کھالیں اور راتوں رات کمال دیکھیں

اگر آپ جسمانی کمزوری ، اعصابی کمزوری، جسم میں تھکاوٹ، سرکا چکرانا، دماغی کمزوری ، اٹھتے بیٹھتے ہڈیوںمیں درد، کمر اور مہروں میں تکلیف یا پھر مردانہ کمزوری کا شکا ر ہیں۔ تو اس کو نسخہ کو آزمائیں۔ یہ نسخہ بہت مجرب ہے۔اس کا استعمال نہ صرف بہت آسان ہے بلکہ طاقت کا ایک ایسا خزانہ ہے جس کے صرف دوچمچ کھانے سے بڑھاپے میں جوانی والی طاقت اور

صحت حاصل کرسکتے ہیں ۔ ہر قسم کی کمزوری اور ہڈیوں کا ہر درد ایسے ختم ہوگا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ اس علاج کو بنانے کے لیے آپ کو چاہیے گڑ بیس گرام ۔ گڑ کا استعمال نہ صرف ہمارے معدے کو مضبوط بناتا ہے بلکہ خوراک کو ہضم کرنے میں مدد گا ر ثابت ہوتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ جسم کی کمزوری ، خون کی کمی، ہڈیوں کی کمزوری اور دماغی کمزوری کو

ختم کرنے کے لیے گڑکا استعمال بہت ہی مفید ثابت ہوتاہے۔ دوسری چیز جو ہمیں چاہیے وہ ہے کمر کس ۔ کمرکس ہم لیں گے بیس گرام۔ یہ آپ کو پنساری کی دکان سے آسانی سے مل جائے گی۔ اس کا استعمال ہڈیوں ، جوڑوں اور کمر کے درد کے لیے بہت ہی مفید اور کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ تیسری چیز ہے وہ ہے بھنے ہوئے چنے ۔

یہ بھی بیس گرام لے لیں۔ چنوں میں ایسے تمام کمپاؤنڈ موجود ہوتے ہیں جس سے نہ صرف ہمارے جسم کو طاقت ملتی ہے بلکہ ہمارا امیون سسٹم بھی مضبوط ہوتاہے۔ نزلہ، زکام ،وبائی بخار جیسے امراض قریب تر نہیں آتے ۔ چوتھی چیز جو بہت ہی اہم ہے۔ وہ ہے اخروٹ۔ اخروٹ کا استعمال جسم میں طاقت کو بڑھانے ، دماغی اور نظر کی کمزوری کو ختم کرنے میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بیس گرام اخروٹ کے گریوں کااستعمال آپ کے بڑھاپے کو جوان بنا سکتا ہے۔

آپ بھی ان چاروں چیزوں کو گرینڈ ر میں ڈال کر باریک پیس لیں۔ اور رات کو سونے سے پہلے ایک گلاس نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔ اسی طرح صبح ناشتے سے ایک گھنٹہ پہلے ایک چمچ نیم گرم دودھ میں ملا کر استعمال کریں۔ ایک سے ڈیڑھ ہفتہ استعمال کریں۔ یقین کریں آپ کے جسم کی تمام کمزوریاں ختم ہوجائیں گی۔ کمر اور جوڑوں کے درد کا نام ونشان تک نہیں رہے گا۔ اس ہوم رمیڈی کا استعمال آٹھ سال سے اوپر ، ہرمرد، چھوٹے بچے کے لیے مفید ترین علاج ہے۔ اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو آپ گڑ کے بغیر اس کا استعمال کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *