کینسر کا سات سو سالہ پرانا نسخہ

کینسر اور سرطان ایک بیماری ہے آج سے سات سو سال پہلے ایک کتاب لکھی گئی اور اس میں اس بات کا تذکرہ ہے

کہ آج جو طرح طرح کی ہم جو چیزیں بناتے ہیں بیگن کی اس وقت یہ سرطان اور کینسر کا مرض شروع ہوا تو بینگن سے ہوا جب اس کو تپا کے مختلف قسم کی اس کی ڈشز بنائی جاتی تھیں اس وقت بھی لوگوں نے اس کا سامنا کیا اس کا علاج کیا اور اس کے بارے میں لوگوں کو بتایا کب کیسے علاج کیا اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک علاج بادام میں رکھا ہے اللہ نے اس میں علاج رکھا ہے اللہ ذوالجلال نے انجیر میں علاج رکھا ہے وہ روایت میں تو یہ آتا ہے کہ جب انجیر لائی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ جنت کا پھل آگیا ہے اور انار کے بارے میں بھی ہے لیکن اس کو کبھی بھی مانتے نہیں ہے کہ ڈاکٹر صاحب بتائیں گے تو کھائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بتائی ہیں ان میں شفاء ہے اس لئے سلف صالحین یہ نصیحت کیاکرتے تھے اچھا جی میں کیا کھایا کروں بیٹا وہ چیز کھایا کرو جس پر انسانی ہاتھ کم لگے کیا چیز ہے مثلا پھل ہیں

اس پر انسانی ہاتھ کم لگتا ہے جتنے وہ فطرتی چیز ہو گی اتنی آپ کے جسم کے لئے وہ سب سے بہترین چیز ہو گی اسی طرح تیسرا علاج جو آج بھی ڈاکٹر ز کہتے ہیں چودہ سو سال پہلے شریعت نے یہ علاج دیا تھا کہ جب کسی بیماری کا کوئی علاج نہ ہو سب سے بڑی بندہ بھی نیک ہے نیکی کے باوجود شریعت کیا کہتی ہے طاقت ہے شادی کرلو نہیں تو پھر روزہ رکھ لو اور آج ڈاکٹرز اپنی ریسرچ کے بعد کیا لکھتے ہیں معدے کو خالی رکھنا آٹھ سے بارہ گھنٹے سولہ گھنٹے اس سے سرطان اور کینسر ہے اس کے جو جراثیم ہیں خلیات ہوتے ہیں یہ ڈیڈ ہوجاتے ہیں اور بیماری ایک دوسرے کو ہی کھانے لگ جاتی ہے اور انسان بیماری سے محفوظ ہوجاتا ہے ان کو کیا پتہ کہ شریعت نے اس کا نام روزہ رکھا تو اللہ سے پہلے تو دعا ہے کہ اللہ جو اس بیماری میں مبتلا ہے مولائے کریم اپنی رحمت خاصہ سے ان کو شفاء عطافرما ۔فرمانِ مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: ہر بیماری کی دوا ہے،

جب دوا بیماری تک پہنچا دی جاتی ہے تو اللہ پاک کےحکم سے مریض اچّھا ہو جاتا ہےحضرت سیِّدُنا علّامہ علی بن سلطان قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ کریم کسی بیمار کی شِفا نہیں چاہتا تو دوا اور مَرَض کے درمیان ایک فِرشتے کے ذَرِیْعے آڑ کردیتا ہے جس کی وجہ سے دوا مَرَض پر واقِع نہیں ہوتی، جب شِفا کا ارادہ ہوتا ہے تو وہ پردہ ہٹا دیا جاتا ہے جس سے دوا مرض پر واقِع ہوتی ہے اور شِفا ہو جاتی ہے۔معلوم ہوا کہ اللہ پاک چاہےگا تو ہی شفاملے گی۔ حدیثِ پاک سے اس قول کا بھی رد ہوگیا کہ کینسر یا فُلاں بیماری لَاعِلاج ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *