”گھر بیٹھے سانس کی تکلیف سے سوفیصد چھٹکارا پائیں“

سانس کی بیماری جسے طبی زبان میں ایستھما کہا جاتا ہے، بہت تکلیف دہ ہوتی ہے ۔یہ ایک دائمی پھیپھڑوں کی بیماری ہے۔ جب آپ سانس لینے میں دشواری محسوس کریں، سانس لینے کے دوران کھڑ کھڑاہٹ کی آواز سنیں، سینے کی جکڑن اور کھانسی کا اکثر و بیشتر سامنا کریں تو ممکن ہے کہ آپ اس مرض کا شکار ہوں۔ یہ مرض عام طور پر الرجِک ردِعمل یا دیگر امراض کے باعث زیادہ حساس ہونے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ سانس کامرض م وروثی اور پھیپڑوں کی دو بڑی سانس کی نالیاں جو سانس لینے میں مدد گار ہوتی ہیں انمیں سوزش کی وجہ سے ہوتاہے ۔سانس کی بیماری کی علامات:وقفے وقفے سے کھانسی آنا۔ خاص طور سے رات کو سونے کے لیے لیٹتے ہی کھانسی کا شروع ہو جانا۔سانس لینے میں تکلیف ایستھیما کی ایک بنیادی علامت ہے ۔تھوڑی سی حرکت کرنے سے سانس پھول جانا اور بہال ہونے میں کافی وقت لگنا بھی اسی مرض کی علامت ہے ۔سینے پر بھاری پن یا سختی محسوس ہونا ۔سانس لینے یا سانس باہر نکالتے وقت سیٹی یا سرسراہٹ محسوس ہونا۔سونے میں دشواری اور سوتے ناک بند ہوجانا یا سانس صحیح طرح نہ لے پانے کی وجہ سے بار بار آنکھ کھلنا ۔بچاؤکے طریقے:اپنے تکیے بستر وغیرہ کو بیکٹیریا اور جراثیم سے بچانے کے لیے انہیں باقائدگی سے دھوئیں ۔پالتو جانوروں کو بستر اور فرنیچر وغیرہ سے دور رکھیں ۔

کوشش کریں بیڈ روم میں قالین نہ بچھائیں ۔سگریٹ نوشی سے گریز کریں ۔ ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھیں جو سگریٹ نوشی کر رہے ہوں ۔گھر کی صفائی وغیرہ میں زیادہ تیز کیمیکل یا بلیچ وغیرہ نہ استعمال کریں ۔پریشانیوں اور ذہنی تناؤ سے جتنا ممکن ہو دور رہیں ۔یہ سانس کے مرض کی ایک بڑی وجہ بن سکتے ہیں ۔گھریلو ٹوٹکوں سے علاج:انجیر بلغم خارج کرنے میں مدد دیتی ہے۔ کھانسی اور دمہ میں اسکے استعمال سے فائدہ ہوتاہے۔چھوہارہ اور ادرک ،پان میں تھوڑا تھوڑا رکھ کر کھانے سے بلغمی کھانسی اور دمے میں افاقہ ہوتا ہے۔ ایک وقت میں پانچ سے زیادہ چھوہارے اور ادرک کے ٹکڑے نہ کھا ئیں۔نصف رتی سونف کو منہ میں رکھ کر چبائیں او ر اسکے رس کو اندر نگلتے رہیں یہ کھانسی اور دمہ کیلئے مفید ہے۔

پسی کالی مرچ ، شہد کے ساتھ ملا کر چاٹنے سے کھانسی،سینے کادرددور کرنے اور پھیپھڑوں سے بلغم جلد خارج کرنے میں مدد ملتی ہے۔البتہ گردے کے درد میں مبتلا افراد اس سے پرہیز کریں۔الائچی خورد ، دمہ اور کھانسی میں مفید ہے۔لہسن پھیپھڑوں کی سل، کھانسی، دمے اور کالی کھانسی میں فائدہ دیتاہے۔بچوں میں سانس کی بیماری کیلئے گرم دودھ میں ہلدی، نمک اور گڑ ڈال کر پلانے سے بچوں کو سردی،کھانسی اور سانس لیتے وقت ہونے والی تکلیف میں افاقہ ہوتاہے۔دو کھجور کا گودا، آدھا چمچ ملیٹھی پاؤڈر ، آدھا چمچ قصوری میتھی ، ڈیڑھ کپ پانی میں ڈال کر خوب جوش دیں ۔ ایک کپ رہ جائے تو نہار منہ صبح، دوپہر ،شام دو چمچ لیں۔پیاز کارس ایک پاؤ،شہد ایک پاؤ، سوڈابائیکارب (کھانے والا)پانچ تولہ، تینوں کو ملا کر رکھ لیں۔صبح و شام ایک ایک چمچ استعمال کریں فائدہ ہوگا ،لاثانی نسخہ ہے ۔شہد دودھ یا پانی میں شامل کرکے پیا جاسکتاہے ۔یہ جمع شدہ بلغم کو تحلیل کرکے سانس کی نالیوں سے خارج کرنے میں مدد دیتاہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.