ہیکل سلیمانی میں دن شیطان کی لکھی کتاب کس کے پاس ہے؟ و ہ شیطان جن جس نے حضرت سلیمانؑ کا تخت چھین کر چالیس دن حکومت کی

آج ہم بتائیں گے کہ حضرت سلیمان ؑ جنہوں نے جنات کو تسخیر کیا اور ان کو نوکروں چاکروں کی طرح رکھا

اور جنات بلاچوں چرا کیے ہر حکم بجا لانے پر مجبور تھے ۔ الومیناٹی تنظیم کی کڑیاں کس سے ملتی ہے اس کے پس پیش کونسے حالات واقعات رونما ہوئے ۔

اللہ تعالیٰ نے جنات اور شیاطین کو بھی حضرت سلیمان ؑ کا تابع اور فرمانبردار بنا دیا تھا جو نوکروں چاکروں کی طرح آپؑ کا ہر حکم بجا لاتے ۔ وہ آپؑ کیلئے سمندر کی تہہ سے قیمتی موتی اور ہیرے جواہرات لے آتے ۔

حضرت سلیمان ؑ کو بڑی عمارتیں بنانے کا شوق تھا ۔ چنانچہ وہ آپؑ کے حکم پر شاندار عمارتیں بناتے اگر ان میں سے کوئی سرکشی کرتا تو آپؑ اسے سزا دیتے اور زنجیروں میں جکڑ دیتے قرآن کریم کی سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر 82میں ارشاد ہے ہم نے بہت سے شیاطین بھی ان کے طابع کیے تھے جو ان کے فرمان سے غوطے لگاتے تھے اوراس کے سوا بھی بہت سے کام کرتے تھے ان کے نگہبان ہم ہی تھے ۔ ان جنوں میں بھی دوطرح کے جنات تھے ۔

ایک تو اہل ایمان تھے جو اپنے نبی کا ہر حکم مذہبی فریضا سمجھ کر پورا کرتے جو جن کافر تھے انہیں شیاطین کہا گیا وہ کفری اور سرکشی کے باوجود حضرت سلیمان ؑ کے تابع فرمان تو رہتے لیکن نقصان کا بھی اندیشہ تھا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انکی حفاظت فرمائی ۔جوکوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اسکو ہم آگ کا مزا چکھائیں گے ۔ مفسرین فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ مقرر فرما دیا تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا سوٹا ہوتا ۔

جو جن حضرت سلیمانؑ کے حکم سے سرتابی کرتا فرشتہ اسے سوٹا مرتا جس سے وہ جل کر بھسم ہوجاتا ۔حضرت سلیمان ؑ کے پاس ایک انگوٹھی تھی جس پر اللہ تعالیٰ کا نام کندہ تھا ۔جب آپؑ غسل خانے جاتے وہ انگوٹھی اپنی بیوی اور بعض روایات کے مطابق اپنی خادمہ کی حفاظت میں دے جاتے ۔ایک روز آپؑ غسل کیلئے تشریف لے گئے تو خسرہ نام کا شیطان جو آپ کا بہت مخالف تھا وہ آپ کی شکل میں آیااور آپکی بیوی سے انگوٹھی لے لی۔

انگوٹھی کا آپ سے جداہونا تھا کہ تخت وتاج اور سلطنت سبھی کچھ آپ سے جاتا رہا سب چیزوں پر شیطان کا قبضہ ہوگیا ۔آپ نہایت پریشانی کے حالت میں محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن حکومت کی اصو ل وضوابط اور حکام کی تبدیلی نے علماء اور دیگر اہل دربار اور اہل خانہ کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ یہ سلیمانؑ نہیں۔

اگر سلیمانؑ ہی ہیں تو کیا انکا شعور وادراک درست کا م کررہا ہے علماء نے ان کا یہ حل نکالا کہ تخت کے ارد گرد تورات کھول کر بیٹھ گئے اور کلام الٰہی کی تلاوت شروع کردی ۔ شیطان کے چہار جانب خدا کا کلام پڑھنے سے وہ تیزی سے بھاگ نکلا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی ۔ اُدھر سلیمانؑ چلتے چلتے مچھیروں کی بستی کی طرف جا نکلے اور مچھیرے کی ہاں ملازمت کرلے

دن بھر کام کاج کے بعد آپکو دو مچھلیاں دی جاتیں۔ ایک روزآپؑ بھوک سے بے حال ہورہے تھے جلدی سے مچھلی صاف کرنے کیلئے اس کا پیٹ چاک کیا تو مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی نکل آئی ۔انگوٹھی کا ملنا تھا کہ اسی لمحے پرندوں کے جھنڈ نے آپؑ پر سایہ کردیا آپؑ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔عوام وخاص نے آپؑ کو پہچان لیا اور معزرت طلب کی ۔ بہرحال آپ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش سمجھی۔

تاریخی قطب میں درج ہے کہ شیاطین اور کافر جنوں کی جانب سے ایک کتاب تحریر کی گئی جس میں جادو کے طریقے درج تھے ۔ اس کتاب آپؑ نے اپنے دربار کے تخت کے نیچے دفن کیا ان کی وفات کے بعد جنوں نے یہ کتاب نکال کر اسے غلط مقاصد کیلئے استعمال کیا اور انسانوں کو بھٹکایا ۔بہت سے لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ وہی کتاب ہے جس کو الومیناٹی نامی تنظیم استعمال کرتی ہے ۔

اسی وجہ سے الومیناٹی ایک طاقتور تنظیم بن چکی ہے اور دنیا پر ایک دجالی شیطانی حکومت بنانے کی منصوبہ بندی پُرزور طریقہ سے جاری ہے ۔ آج کل کی سائنسی دنیا میں جانے انجانے میں اس کا شکار ہورہے ہیں۔ تعویز گنڈے کا اسی کا پروپیگنڈہ ہے۔اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.