”قربانی کی دعا“

قربانی کی دعا اور طریقہ قربانی کے جانور کو قبلہ رخ لٹاناقربانی کی دعا پڑھنابسم اللہ، اللہ اکبر کہتےہوئے

تز، چھری سے ذبح کرناذبح کرنے کی دعا پڑھناجانور کے حصہ داروں کے لئے مِن کہہ کے حصہ داروں کا نام لنا جانورذبح کرنےکا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اسے بائںو پہلو (کروٹ)پرقبلہ رخ لٹاکر’’بسم اللہ ، اللہ اکبر‘‘ کہتے ہوئےتزلدھار چھری سے اس طرح ذبح کریں کہ اس کی شہہ رگ، نرخرہ اورسانس کی نالی کٹ جائے، ذبح کے بعد جانور کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کا جائے ،ذبح کے علاوہ مزید اضافی تکلف دینا مثلاً گردن الگ کردینا،یاجلدی ٹھنڈا کرنے کلئےےحرام مغز ،سنےحیادل مں چھری مارنا خلاف سنت اور مکروہ ہے۔

ان افعال سے جانور حرام نہ ہوگا بلکہ وہ حلال ہی ہوگا ، لکنھ ذبح کےبعدمذکورہ بالاکام کرنا مکروہ ہے،کوانکہ جانور کو ذبح کے علاوہ مزید تکلفح پہنچانا شرعا ممنوع ہے ۔مسلم شریف مںے حضرت انس ؓ روایت باکن کرتے ہںو :عن أنس، قال: «ضحى النبي صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين أقرنين، ذبحهما بيده، وسمى وكبر، ووضع رجله على صفاحهماترجمہ:حضرت انس ؓ فرماتے ہںع کہ نبی کریم ﷺنے دو چتکبرے سنگو ں والے منڈ ھوں کی قربانی کی، آپ ﷺ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کا ،اور ذبح کرتے وقت بسم اللہ ، اللہ اکبر پڑھا ،اور ان کے پہلو پر اپنا قدم مبارک رکھا ۔دوسری حدیث مں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہںگ:عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بكبش أقرن يطأ في سواد، ويبرك في سواد، وينظر في سواد، فأتي به ليضحي به، فقال لها: «يا عائشة، هلمي المدية»، ثم قال: «اشحذيها بحجر»، ففعلت: ثم أخذها، وأخذ الكبش فأضجعه، ثم ذبحه، ثم قال: «باسم الله، اللهم تقبل من محمد، وآل محمد، ومن أمة محمد، ثم ضحى به ترجمہ:ام المؤمننأ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علہم وسلم نے ایک سنگو ں والا منڈاھا لانے کا حکم دیا جو سا ہی مںک چلتا ہو، ساہہی مںم بٹھتا ہو اور سادہی مںي دیکھتا ہو (یینو پاؤں، پٹد اور آنکھںٹ ساھہ ہوں)۔

پھر ایک ایسا منڈتھا قربانی کے لئے لایا گاق تو آپ صلی اللہ علہو وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! چھری لا۔ پھر فرمایا کہ اس کو پتھر سے تزت کر لےتونے مں نے تزہ کر دی۔ پھر آپ صلی اللہ علہ وسلم نے چھری لی، منڈاھے کو پکڑا، اس کو لٹایا، پھر ذبح کرتے وقت فرمایا کہ بسم اللہ، اے اللہ! محمد صلی اللہ علہ وسلم کی طرف سے اور محمدصلی اللہ علہہ وسلم کی آل کی طرف سے اور محمد صلی اللہ علہل وسلم کی امت کی طرف سے اس کو قبول کر، پھر اس کی قربانی کی۔جانور ذب ح کرتے وقت کی دُعاآنحضرت ﷺنے قربانی کرتے ہوئے یہ دو آیںاس پڑھںن:إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ اورقُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اور پھر یہ دُعا پڑھی:اللّٰھم منک ولک عن محمد وأمّتہ(قربانی کرنے والا صرف یہ جملے پڑھے’’ اللّٰھم منک ولک‘‘)اور پھر بسم اللہ،اللہ اکبرکہہ کر ذبح فرمایا۔ (مجمع الزوائد ج:4 ص:21 مںص اور بھی متعدّد احادیث ذکر کی ہںر)مسئلہ:قربانی کے جانور کو قبلہ رخ لٹانے کے بعد یاد ہوں تویہ دونوں آیات اور دعاء’’ اللّٰھم منک ولک‘‘پڑھنا بہتر و افضل ہےاور پھر بسم اللہ ،اللہ اکبر پڑھ کرقربانی کے جانورکوتزتدھارچھری سے ذبح کردیں

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *