ایسی عورت کو ط ل ا ق دے کر جان چھڑاؤ جتنی جلدی ہو سکے۔

پھر میں بتا دوں کوئی بھی خاتون عدالت سے خل ا ء کی ڈگری لیتی ہیں

ابھی ایک کیس آ یا خاتون نے عدالت سے خل ا ء کی ڈگری لی ہمارے پاس پھر وہ ان کے دل میں اللہ کا خ و ف تھا انہوں نے رابطہ کیا ۔ ہم نے کہا یہ خل ا ء تو ٹھیک نہیں ہوا۔ کہنی لگی بڑا ظ الم آدمی ہے شوہر بیوی) کی رضامندی سے ہوتا ہے، محض کورٹ کے خلع لکھ دینے سے نہیں ہوتا، نیز انگلش کورٹ میں جج مسلم ہے یا غیر مسلم یہ بھی واضح نہیں، مذکورہ عورت کا شوہر اگر واقعی متعنت ہے یعنی بیوی کا نفقہ نہیں دیتا اور نہ طلاق دے کر زوجیت سے آزاد کرتا ہے تو عورت کو چاہیے کہ شرعی عدالت میں اپنا معاملہ پیش کرے، اور وہاں سے شرعی ضابطے کے مطابق جو فیصلہ ہو اس پر عمل کرے۔

لڑکی نہ اپنے شوہر کو طلاق دے سکتی ہے اور نہ ہی خود اپنے آپ کو طلاق دینے کا اس کو حق ہے، البتہ اگر شوہر یا سسرال والوں کی طرف سے حقیقةً اس پر ظلم ہورہا ہے اور وہ بے قصور ہے تو ایسی صورت میں بیوی کو حق ہے کہ وہ اپنا معاملہ محکمہٴ شرعیہ میں م رافعہ کردے اگر بعد تحقیق شرعی محکمہٴ شرعی پنچائت الحیلة الناجزہ میں لکھے ہدایات واصول کے مطابق نکاح فسخ کردے تو بعد انقضائے عدت نکاحِ ثانی کی اجازت ہوجائے گی عورت پر سے دائمی معصیت کی لعنت ہٹا دی گئی اور اس پر سے ذلت کا داغ دور کر دیا گیا کہ عورت اور مرد دونوں کو شیطان نے وسوسہ ڈالا تھا، جس کے نتیجے میں وہ جنت سے اخراج کے مستحق ہوئے تھے جبکہ عیسائی روایات کے مطابق شیطان نے حضرت حواء علیہا السلام کو بہکا دیا اور یوں حضرت حواء علیہا السلام حضرت آدم علیہ السلام کے بھی جنت سے اخراج کا سبب بنیں۔

قرآن حکیم اس باطل نظریہ کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے عورت کو زندہ زمین میں گاڑے جانے سے خلاصی ملی۔ یہ وہ بری رسم تھی جو احترام انسانیت کے منافی تھی۔ اسلام عورت کے لیے تربیت اور نفقہ کے حق کا ضامن بنا کہ اسے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت ولی الامر کی طرف سے ملے گی۔ عورت کی تذلیل کرنے والے زمانۂ جاہلیت کے قدیم نکاح جو درحقیقت زنا تھے، اسلام نے ان سب کو باطل کرکے عورت کو عزت بخشی۔اب ہم ان حقوق کا جائزہ لیتے ہیں جو اسلام نے عورت کو مختلف حیثیتوں میں عطا کیے : اسلام نے قانون کے نفاذ میں بھی عورت کے اس حق کو مستحضر رکھا۔ خلفائے راشدین کا طرز عمل ایسے اقدامات پر مشتمل تھا جن سے نہ صرف عورت کے حق عصمت کو مجروح کرنے والے عوامل کا تدارک ہوا بلکہ عورت کی عصمت و عفت کا تحفظ بھی یقینی ہوا۔

ایک شخص حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ میرے ایک مہمان نے میری ہمشیرہ کی آبروریزی کی ہے اور اسے اس پر مجبور کیا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے پوچھا اس نے ج رم کا اعتراف کرلیا۔ اس پر آپ نے حد زنا جاری کرکے اسے ایک سال کے لئے فدک کی طرف جلا وطن کردیا۔ لیکن اس عورت کو نہ تو کوڑے لگائے اور نہ ہی جلا وطن کیا کیونکہ اسے اس فعل پر مجبور کیا گیا تھا۔ بعد میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کی شادی اسی مرد سے کردی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.