”صرف ایک مرتبہ پڑھ کر جو بھی مانگیں مل جائے گا اب ہر مرادپوری ہوگی ، حضور ﷺ کا بتایا ہوا خاص عمل“

عمل نہایت آسان ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے حضو اقد سﷺ نے فرمایا: جوشخص یہ کلمات پڑھ لےیعنی ایک مرتبہ پڑھ لیں۔ اسکے پڑھنے کےبعد وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی مانگے تو انشاءاللہ! اس کی دعا قبول ہوگی۔

وہ کلمات کیا ہیں۔ وہ کلمات” لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، لا الہ الا اللہ وحدہ ، لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ، لا الہ الا اللہ لہ الملک ولہ الحمد ، وھو علی کل شییء قدیر لا الہ الا اللہ ولا حول ولا قوۃ الا بااللہ ” ہیں۔ تو یہ حدیث حضوراقدس ﷺ سے ثابت ہے۔ حضور اکرم ﷺنے ان کلمات کےبارے میں فرمایا ہے کہ جو شخص ان کلمات کو پڑھ کر اللہ سے جو بھی دعا مانگے گا۔ اللہ کے حکم سے اس کی وہ دعا ضرور قبول ہوگی۔ مگر اس عمل کی جو شرائط ہیں وہ بھی حدیث سے بتادیتے ہیں ۔ جب آپ یہ عمل کریں گے ان کے ساتھ ساتھ آپ کو ان شرائط کو بھی پورا کرنا ہوگا۔

جو کہ حضور اقدسﷺسے ہی مروی ہیں۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: کہ بندہ کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہےجب تک کسی گن اہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے یعنی اس عمل کو جائز مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ یعنی تب تک آ پ کی دعا قبول ہوگی جب آ پ اس کو کسی جائز مقصد کےلیے استعمال کریں گے۔ اگر آپ اس کو کسی گ ن اہ میں مبتلا ہونے کےلیے یا کسی سے قطع رحمی کرنے کےلیے اس دعا کو استعمال کریں گے

تو آپ کی دعا قبول نہیں ہوگی۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: اس عمل سے کسی گن اہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور جلدبازی نہ کرے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریا فت کیا کہ جلد بازی کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یوں خیال کربیٹھے کہ اتنے عرصے سے دعا مانگ رہا ہوں۔ اب تک قبول نہیں ہوئی یہاں تک کہ مایو س ہوکر دعا چھوڑ دے ۔ یعنی اس عمل میں سب سےپہلے آپ کوکیا کرناہے۔

آپ نے کسی گن اہ کے لیے استعمال نہین کرنا ہے۔ اور نہ ہی قطع رحمی کے ذریعے سے دعاکرنی ہے کہ فلاں کو اس کے ذریعے یہ ہوجائے یا وہ ہوجائے اور اس کے علاوہ جلدبازی نہیں کرنی ۔ جیسا کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا: اگر یوں خیال نہ کر بیٹھے کہ اتنے عرصے سے دعا مانگ رہا ہوں اور دعا قبول نہیں ہورہی ۔ اگر دعاقبول نہیں ہورہی ہے تو مایوس نہیں ہونا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے امید رکھنی ہے کہ انشاءاللہ ! اگر میری دعا قبول نہیں ہورہی تو اس کے قبول نہ ہونے میں بھی میری بہتری ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ آ پ کی دعا قبول ہونے یا نہ ہونے میں کس قسم کی مصلحت شامل ہے ۔ کیونکہ بعض اوقات ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہو رہی ۔ شاید ہم اللہ کو اچھے ہی نہیں لگتے ۔

بعض لوگ ایسے کلمات جو ہے وہ دعا قبو ل نہ ہونے کی صورت میں بول دیتے ہیں جوکہ بہت غلط بات ہے اللہ کے ساتھ امیدرکھیں اور اس حدیث کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ سے بھر پور امید کے ساتھ مانگنا ہے۔ اور مایوس بالکل بھی نہیں ہونا ہے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *